تمل ناڈو میں سرکاری ملازمتوں کے لیے تمل میڈیم امیدواروں کا 20 فیصد کوٹہ بحال، گورنر کی منظوری

Wait 5 sec.

چنئی: تمل ناڈو کے گورنر راجندر وشوناتھ ارلیکر نے سرکاری ملازمتوں میں تمل میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والے امیدواروں کے لیے 20 فیصد ترجیحی کوٹے سے متعلق ترمیمی قانون کو منظوری دے دی ہے۔ یہ قانون صرف براہِ راست بھرتی کے ذریعے ہونے والی نئی تقرریوں پر لاگو ہوگا اور اس کا اطلاق پہلے سے کی گئی تقرریوں پر نہیں ہوگا۔تمل ناڈو حکومت نے 2010 میں ایک قانون کے ذریعے براہِ راست بھرتی کی جانے والی سرکاری ملازمتوں کی 20 فیصد خالی آسامیوں کو اہل تمل میڈیم امیدواروں کے لیے مختص کرنے کا انتظام کیا تھا۔ اس قانون کے تحت اہل امیدواروں کو ترجیح دی جاتی تھی، خواہ وہ پہلے سے کسی سرکاری ملازمت میں ہوں یا نہ ہوں۔بعد ازاں مدراس ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں واضح کیا کہ پہلے سے سرکاری ملازمت میں موجود ملازمین تمل میڈیم امیدواروں کے زمرے کے تحت اس ترجیح کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو واضح کرنے اور 7 ستمبر 2010 کے بعد سرکاری ملازمت میں آنے والے افراد کی اہلیت سے متعلق ضوابط طے کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے رواں سال جنوری میں اسمبلی میں ترمیمی بل پیش کیا تھا۔گورنر کی منظوری کے بعد اب یہ ترمیم نافذ ہوگئی ہے۔ ترمیم شدہ قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ اس کے دفعات مستقبل میں ہونے والی نئی بھرتیوں پر لاگو ہوں گے اور پہلے سے کی گئی تقرریاں اس کے دائرے میں نہیں آئیں گی۔نئے ضوابط کے مطابق، تمل میڈیم کوٹے کے تحت ترجیح حاصل کرنے کے لیے امیدوار کا پہلی جماعت سے لے کر اس عہدے کے لیے مقررہ تعلیمی اہلیت حاصل کرنے تک کا پورا تعلیمی سفر تمل میڈیم میں ہونا ضروری ہے۔ محض تمل زبان میں امتحان دینے سے کوئی امیدوار اس زمرے کے لیے اہل نہیں ہوگا۔قانون کے تحت ایسے امیدوار بھی ترجیح کا دعویٰ نہیں کر سکیں گے جنہوں نے تعلیم کے لیے کسی دوسری زبان کو ذریعۂ تدریس کے طور پر استعمال کیا ہو، خواہ انہوں نے اپنے امتحانات تمل زبان میں ہی کیوں نہ دیے ہوں۔ تاہم، ایسے طلبہ جنہوں نے کسی دوسری ریاست میں تمل میڈیم سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں تمل ناڈو میں اپنی تعلیم جاری رکھی، وہ اس جماعت سے تمل میڈیم امیدوار کے طور پر اہل سمجھے جائیں گے جس میں انہوں نے تمل ناڈو میں داخلہ لیا تھا، بشرطیکہ وہ قانون میں مقرر دیگر شرائط پوری کرتے ہوں۔امیدواروں کو اپنی تعلیمی اہلیت کی تکمیل تک جن مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی ہے، وہاں سے تمل میڈیم میں تعلیم حاصل کرنے کی تصدیق کرنے والے سرٹیفکیٹ بھی پیش کرنا ہوں گے۔ اس طرح حکومت نے تمل میڈیم کوٹے کے دعووں کی یکساں جانچ کے لیے دستاویزی ثبوت کو لازمی قرار دیا ہے۔