لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے نے بہار کی راجدھانی پٹنہ میں جاری طلبہ احتجاج سے متعلق مسائل کو اٹھاتے ہوئے حکومت سے کچھ سوالات پوچھے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر این ایس یو آئی کی ایک پوسٹ کو ری-پوسٹ کیا ہے، جس میں پولیس ایک 5 سالہ بچے کو گرفتار کر کے لے جا رہی ہے۔ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’’بہار کے طلبہ کا سوال بہت سیدھا ہے، بھرتی کے امتحانات میں گڑبڑی کیوں؟ پیپر لیک کے الزامات پر کارروائی کیوں نہیں؟ اور نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کب تک؟‘‘बिहार के छात्रों का सवाल बहुत सीधा है - भर्ती परीक्षाओं में गड़बड़ी क्यों? पेपर लीक के आरोपों पर कार्रवाई क्यों नहीं? और युवाओं के भविष्य के साथ खिलवाड़ कब तक?BPSC की परीक्षाओं का विवाद आज का नहीं है। छात्र लंबे समय से भर्ती प्रक्रिया, परीक्षा पैटर्न, देरी और पारदर्शिता को लेकर… https://t.co/RwZPlxJHxB— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) August 26, 2026راہل گاندھی اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’بی پی ایس سی کے امتحانات کا تنازعہ آج کا نہیں ہے۔ طلبہ طویل عرصے سے بھرتی کے عمل، امتحان کے پیٹرن، تاخیر اور شفافیت کو لے کر سڑکوں پر ہیں۔ لیکن حکومت جواب دینے کیا کر رہی ہے؟ لاٹھی اور واٹر کینن چلا رہی ہے۔ طلبہ کو حراست میں لے رہی ہے۔ سیوان میں تو مظاہرین پر اے کے-47 سے فائرنگ تک کا معاملہ سامنے آیا۔‘‘’ہجوم میں پھنسے کانسٹیبل نے دفاع میں چلایا اے کے 47‘، سیوان فائرنگ معاملے پر بہار حکومت کا سپریم کورٹ میں جوابکانگریس رہنما راہل گاندھی یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’یہ صرف پولیس کی کارروائی کا سوال نہیں ہے۔ یہ اس بی جے پی حکومت کی ذہنیت کا سوال ہے جس کے پاس جواب نہیں ہے، اس لیے وہ پولیس کو جوابدہی سے بچنے کا ہتھیار بنا رہی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’بی جے پی حکومت یہ سمجھ لے کہ لاٹھی سے سوال نہیں رکتے۔ ڈرا کر کسی کا مستقبل نہیں چھینا جا سکتا۔ بہار کے طلبہ سوال پوچھتے رہیں گے۔ اور اب صرف جواب نہیں، جوابدہی چاہیے۔‘‘इन चोरों के ख़िलाफ़ इस देश के पाँच साल के नन्हे बच्चे भी खड़े हो गए है।और चोरों की पुलिस उन्हें हिरासत में ले रही है, लेकिन असली पेपर चोर आज भी पुलिस की गिरफ्त से बाहर हैं। शर्मनाक! pic.twitter.com/RTmctGb5t4— NSUI (@nsui) August 25, 2026واضح رہے کہ بہار میں طلبہ احتجاج کے دوران بچے کو حراست میں لینے والی ویڈیو این ایس یو آئی نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے۔ این ایس یو آئی نے لکھا کہ ’’ان چوروں کے خلاف اس ملک کے 5 سال کے ننھے بچے بھی کھڑے ہو گئے ہیں اور چوروں کی پولیس انہیں حراست میں لے رہی ہے۔ لیکن اصل پیپر چور آج بھی پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔ شرمناک!‘‘