نئی دہلی: دہلی کے ایرو سٹی میں واقع معروف ہوٹل انداز حیات اور جے ڈبلیو میریئٹ کے کچن میں ہندوسستانی غذائی تحفظ و معیارات اتھارٹی یعنی فسائی (ایف ایس ایس اے آئی) کے معائنے کے دوران صفائی اور غذائی تحفظ سے متعلق سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں۔ معائنے میں کاکروچ، مکھیاں، بدبو، خراب اور ایکسپائر غذائی اشیا کے علاوہ ویج اور نان ویج اشیا کی علیحدہ ذخیرہ کاری میں بھی بے ضابطگیاں پائی گئیں۔فسائی کی جانب سے کیے گئے معائنے کے مطابق انداز حیات کے کچن میں سبزی اور غیر سبزی کھانے کو الگ رکھنے کے مناسب انتظام میں کمی پائی گئی۔ معائنے کے دوران کاکروچ اور مکھیاں بھی ملیں، جبکہ بدبو کی شکایات درج کی گئیں۔ بعض بریڈ پیکٹوں پر ایکسپائر ہونے کے ایکسپائری اسٹیکر چسپاں پائے گئے۔ہوٹل کے حلوائی کے شعبے میں تقریباً 87 کلوگرام ایکسپائر مٹھائیاں برآمد ہوئیں، جنہیں موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ پیسٹری سیکشن میں بھی ایکسپائر کیک بیس کے ساتھ مکھیاں اور کاکروچ پائے گئے۔ ان خامیوں سے کچن میں صفائی ستھرائی اور غذائی اشیا کی محفوظ نگہداشت کے انتظامات پر سوالات اٹھے ہیں۔دوسری جانب نئی دہلی کے جے ڈبلیو میریئٹ ہوٹل میں تقریباً دو روز تک جاری رہنے والے معائنے کے دوران 59 خامیاں درج کی گئیں۔ فسائی کے مطابق بعض غذائی مصنوعات کے لیے ضروری لائسنس یا منظوری دستیاب نہیں تھی۔ پیک شدہ غذائی مصنوعات کی لیبلنگ میں بھی بے ضابطگیاں پائی گئیں۔معائنے کے دوران پھپھوندی لگے سیب اور سڑے ہوئے ٹماٹر بھی ملے۔ کئی غذائی اشیا کھلے میں رکھی ہوئی تھیں، جبکہ ویج اور نان ویج مصنوعات کو الگ رکھنے کے لیے مقررہ اصولوں کی بھی مکمل پابندی نہیں کی جا رہی تھی۔ بیکری کے حصے میں کاکروچ اور ٹوٹے ہوئے کنٹینر پائے گئے۔فسائی نے اس سے قبل بھی غذائی تحفظ کے ضوابط کی خلاف ورزی اور مطلوبہ معیار پر عمل نہ کرنے والی دہلی اور دمن کی دو غذائی کاروباری اکائیوں کے خلاف کارروائی کی تھی۔ نئی دہلی کی مارشے ریٹیل پرائیویٹ لمیٹڈ کا لائسنس فوری طور پر 30 دن کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔فسائی کے مطابق مارشے ریٹیل کے ابتدائی اور بعد کے معائنے میں ادارے کے ڈیزائن، آپریشنل کنٹرول، صفائی، ذاتی حفظانِ صحت، فوڈ ہینڈلرز کی تربیت اور لازمی ریکارڈ رکھنے سمیت متعدد شعبوں میں خامیاں پائی گئیں۔ غذائی اشیا سنبھالنے والے ملازمین کے ضروری طبی ریکارڈ بھی دستیاب نہیں تھے اور غذائی تحفظ و صفائی سے متعلق لازمی دستاویزات بھی مناسب طریقے سے مرتب نہیں کی گئی تھیں۔