بیلجیئم میں خطرے کی گھنٹی بج گئی، مارکیٹ سے 20 لاکھ انڈے واپس

Wait 5 sec.

برسلز (25 اگست 2026 ): بیلجیئم میں سالمونیلا کے وبا تیزی سے پھیلنے لگی، ناقص انڈے کھانے سے اب تک سینکڑوں افراد پیٹ کی بیماری کا شکار ہوکر اسپتال پہنچ گئے۔رپورٹ کے مطابق پولٹری فارم سے حاصل کیے گئے انڈے کھانے کے باعث سالمونیلا کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ سے کم از کم 306 افراد متاثر ہوگئے ہیں، اس صورتحال کو ملک میں سالمونیلا کا غیر معمولی اور ریکارڈ پھیلاؤ قرار دیا جا رہا ہے۔ترجمان کے مطابق بیلجیئم میں سالمونیلا کے کیسز سامنے آنا غیر معمولی نہیں، تاہم اس سے قبل اتنی بڑی تعداد میں افراد کے متاثر ہونا نہیں دیکھا گیا، تاہم خوش قسمتی سے اب تک کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔20لاکھ مشتبہ انڈے مارکیٹ میں پہنچ گئےفوڈ سیفٹی ایجنسی کے مطابق آلودگی کا پہلی بار مئی میں پتا چلا، جس کے بعد انڈے واپس منگوانے کا حکم دیا گیا اور فلینڈرز کے فارم کے ایک پولٹری ہاؤس کو بند کردیا گیا۔بعد ازاں مزید کیسز سامنے آنے پر پورے فارم کو بند کردیا گیا اور 10 اگست کو دوسری مرتبہ انڈے واپس منگوانے کے بعد فارم کی تمام مرغیوں کو تلف کردیا گیا۔حکام کے مطابق تقریباً 20 لاکھ ایسے انڈے بیلجیئم اور پڑوسی ملک لکسمبرگ میں فروخت کیے گئے جو سالمونیلا سے آلودہ ہوسکتے تھے، لکسمبرگ کے حکام نے بھی انڈوں کی واپسی کا اعلان کیا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق انڈوں کو اچھی طرح پکانے سے سالمونیلا سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔سالمونیلا ایک قسم کے چھڑی نما بیکٹیریا ہیں جو سالمونیلا سس نامی بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس کی عام علامات میں اسہال، بخار اور پیٹ میں مروڑ یا درد شامل ہیں۔حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ واپس منگوائے گئے انڈوں کے استعمال سے گریز کریں اور اگر سالمونیلا سے ملتی جلتی علامات ظاہر ہوں تو طبی مشورہ حاصل کریں۔سالمونیلا وائرس کیا ہے؟سالمونیلا بیکٹیریا کی ایک قسم ہے جو کھانے سے پیدا ہونے والی بیماری کا سبب بن سکتی ہے، جسے عام طور پر سالمونیلوسس کہا جاتا ہے۔یہ انفیکشن اپنے پھیلاؤ اور ممکنہ شدت کی وجہ سے اہم ہے، جس سے ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں افراد متاثر ہوتے ہیں۔سالمونیلا انفیکشن کی عام علامات میں پیٹ میں مروڑ، اسہال، قے اور بخار شامل ہیں، جو عموماً جراثیم سے متاثر ہونے کے 12 سے 72 گھنٹے کے اندر ظاہر ہوسکتی ہیں۔اس کی روک تھام اور طبی انتظام کے لیے سالمونیلا کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ اگر اس پر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ صحت کی سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔انڈے خوفناک وائرس کی وجہ : تحقیق میں ہوشربا انکشاف