نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن اجے ماکن کی فضائی آلودگی سے متعلق روزانہ کی رپورٹ میں ایک اہم تبدیلی سامنے آئی ہے۔ ان کے مطابق موسم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے بعد دہلی کی پی ایم 10 آلودگی کا گزشتہ سال کے مقابلے میں مسلسل بدتر رہنے والا سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔ یہ سلسلہ 30 مئی سے جاری تھا اور 88 دن تک برقرار رہنے کے بعد اب ٹوٹ گیا ہے۔اجے ماکن نے اپنی تازہ ایکس پوسٹ میں ’سانس (SAANS)‘ سیریز کے تحت دن 109 کا اعداد و شمار جاری کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موسم کا اثر نکالنے کے بعد اب دہلی کی پی ایم 10 ہوا گزشتہ سال کے اسی دن کے مقابلے میں بدتر نہیں رہی۔ ان کے مطابق جو اعداد و شمار روزانہ عوام کے سامنے رکھے جا رہے تھے، ان میں بہتری یا بگاڑ دونوں کو یکساں طور پر ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور اس بار مسلسل خراب رہنے کا سلسلہ ختم ہونے کی اطلاع بھی اسی طرح دی جا رہی ہے۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق بُراری کراسنگ آج صبح 301 کے اے کیو آئی کے ساتھ دہلی کا بدترین مانیٹر رہا۔ سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے پیمانے پر 301 ’بہت خراب‘ زمرے میں آتا ہے۔ سی پی سی بی کے مطابق اس سطح کی ہوا میں طویل عرصے تک رہنے سے لوگوں کو سانس سے متعلق بیماریوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق بُراری کراسنگ کے اس مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 9.2 لاکھ افراد رہتے ہیں۔ تاہم ماکن نے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ کسی مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں موجود ہر شخص عین اسی مانیٹر پر ریکارڈ ہونے والی آلودگی میں سانس لے رہا ہے۔دہلی کی مجموعی صورت حال بھی مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں ہے۔ ماکن کے مطابق آج تقریباً 27.7 لاکھ افراد ایسے مانیٹروں کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہتے ہیں جہاں اے کیو آئی ’خراب‘ یا اس سے بدتر سطح پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس طرح مسلسل خراب ہوا کا مسئلہ اگرچہ پورے شہر میں یکساں نہیں، لیکن آبادی کے ایک بڑے حصے کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔سالانہ موازنے کے اعداد و شمار بھی دہلی میں فضائی آلودگی کے مسئلے کی شدت ظاہر کرتے ہیں۔ اس سال اب تک 240 دنوں کے اعداد و شمار دستیاب ہوئے ہیں، جن میں 164 دن ایسے رہے جب دہلی کی پی ایم 10 آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ خراب تھی۔ یعنی مجموعی طور پر آلودگی میں بہتری کے دنوں کے مقابلے میں خراب کارکردگی والے دنوں کی تعداد اب بھی نمایاں طور پر زیادہ ہے۔आज की दिल्ली, आज की हवा पिछले साल इन्हीं दिनों से दिल्ली का औसत AQI 56 अंक चढ़ चुका है।आँकड़ों की अवधि: 27 अगस्त सुबह 10 बजे से 28 अगस्त सुबह 10 बजे तक, यानी 24 घंटे का औसत, CPCB स्टेशन आँकड़ों पर। (CPCB का शाम 4 बजे वाला बुलेटिन अलग अवधि का है।)• शहर AQI 133, जबकि WHO… pic.twitter.com/4LTMoGCtWn— Ajay Maken (@ajaymaken) August 28, 2026ماکن کی رپورٹ میں ’ڈی ویدرنگ‘ یعنی موسم کے اثرات کو الگ کرنے کا طریقہ استعمال کیا گیا ہے۔ اس طریقے میں ہوا، بارش اور درجہ حرارت جیسے موسمی عوامل کے اثرات کو حساب سے الگ کیا جاتا ہے، تاکہ آلودگی کے اعداد و شمار میں موسم کی وجہ سے آنے والی عارضی تبدیلیوں کے بجائے شہر کی حقیقی آلودگی کے رجحان کو دیکھا جا سکے۔ماکن نے اپنی پوسٹ میں اس بات پر بھی زور دیا کہ جو اعداد و شمار روزانہ ریکارڈ اور عوام کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں، انہیں خاموشی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی ’سانس‘ مہم میں دہلی کی فضائی آلودگی کے روزانہ اعداد و شمار، مختلف مانیٹرنگ اسٹیشنوں کی صورت حال اور گزشتہ سال کے مقابلے میں تبدیلی کو مسلسل اجاگر کیا جا رہا ہے۔