اردن(24 اگست 2026): امریکی ثالثی میں شام اور اسرائیل کے اعلیٰ سطح وفود کے درمیان اردن میں اہم مذاکرات ہوئے ہیں۔شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس ملاقات کا بنیادی مقصد شام میں حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنا تھا۔مذاکرات میں شامی وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی اور شامی انٹیلی جنس کے سربراہان نے اسرائیلی اعلیٰ سطح وفد سے ملاقات کی، جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر شامی وفد نے اپنا مؤقف دہراتے ہوئے واضح کیا کہ گولان کی پہاڑیاں مقبوضہ شامی علاقہ ہیں، تاہم ان کی حتمی حیثیت پر فی الحال بات کرنا قبل از وقت ہے۔شام کی فوری اور اولین ترجیح یہ ہے کہ اسرائیلی فوجی آٹھ دسمبر دو ہزار چوبیس سے پہلے والی پوزیشنوں تک انخلا کریں اور انیس سو چوہتر کے معاہدۂ پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔