ایران پر معاشی شکنجہ مزید سخت، امریکا کا اب تک کی سب سے بڑی مالی کارروائی کا آغاز

Wait 5 sec.

واشنگٹن : امریکا نے ایران کیخلاف آج سے فیصلہ کن معاشی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا جنگ کا یہ آخری مرحلہ ہے، اقتصادی ڈی ڈے کا آغاز ہو رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے کہا ہے کہ ایران کے خلاف اقتصادی محاذ پر بڑی کارروائی شروع ہونے جارہی ہے، جس کا مقصد تہران کو معاشی طور پر تنہا کرنا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ شروع ہونے جارہا ہے، جو کسی بھی مخالف کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی مالی کارروائی ہوگی۔امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ایران کو میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ معاشی محاذ پر تنہا کرنا مقصد ہے، تہران کے خلاف کھڑے ہونے کے خطرے سے متعلق تشویش رکھنے والوں کو سمجھنا چاہیے کہ واشنگٹن کو آزمانے کی قیمت بھی بہت بھاری ہوسکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا کا مقصد ایران کی حکومت کو سہارا دینے والی ہر معاشی لائف لائن کاٹ دینا ہے تاکہ تہران مکمل طور پر تنہا ہوجائے۔امریکی وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو تقریباً ختم کردیا ہے، جبکہ ایران کی فوجی فیکٹریوں کو تباہ اور اس کے جوہری پروگرام کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایسے حالات پیدا کردیئے ہیں جن میں امریکا ہر ادارے، قانونی اختیار اور اقدام کو استعمال کرسکتا ہے، جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ واشنگٹن انہیں کبھی استعمال نہیں کرے گا۔