دہلی کی آلودگی کا 88 روزہ سلسلہ ٹوٹا، آنند وہار میں اے کیو آئی 375 ریکارڈ: اجے ماکن

Wait 5 sec.

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن اجے ماکن کی جانب سے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق جاری ’سانس‘ سیریز میں 88 دن سے جاری پی ایم 10 آلودگی کا سلسلہ ٹوٹنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ ماکن کے مطابق موسم کے اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کرنے کے بعد دہلی کی پی ایم 10 ہوا اب گزشتہ سال کے اسی دن کے مقابلے میں بدتر نہیں رہی۔ یہ سلسلہ 30 مئی سے مسلسل جاری تھا۔اجے ماکن نے اپنی تازہ پوسٹ میں ’سانس، دن 108‘ کے تحت بتایا کہ دہلی میں آلودگی کا مسلسل 88 روزہ سلسلہ اب ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس رجحان کو روزانہ ریکارڈ کیا گیا اور عوام کے سامنے رکھا گیا، اس کے ختم ہونے کی اطلاع بھی اسی شفافیت کے ساتھ دی جا رہی ہے۔ماکن کے مطابق رواں سال اب تک 239 دنوں کے اعداد و شمار کی پیمائش کی گئی، جن میں 164 دن ایسے رہے جب دہلی کی پی ایم 10 آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ اس طرح اگرچہ مسلسل 88 دن تک جاری رہنے والا سلسلہ ٹوٹ گیا ہے، لیکن مجموعی طور پر رواں سال کے پیمائش شدہ دنوں کی بڑی تعداد میں آلودگی گزشتہ سال سے زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔تازہ اعداد و شمار میں آنند وہار کی صورت حال بھی نمایاں کی گئی ہے۔ ماکن کے مطابق آنند وہار میں آج صبح اے کیو آئی 375 ریکارڈ کیا گیا، جو سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ کے پیمانے پر ’بہت خراب‘ زمرے میں آتا ہے۔ سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ کے مطابق اس سطح کی ہوا میں طویل عرصے تک رہنے سے لوگوں کو سانس سے متعلق بیماری لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق آنند وہار کے متعلقہ مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 13.6 لاکھ افراد رہتے ہیں۔ تاہم ماکن نے اس حوالے سے ایک اہم وضاحت بھی کی ہے کہ کسی مانیٹر کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں موجود ہر شخص عین اسی مانیٹر پر ریکارڈ ہونے والی ہوا میں سانس لے رہا ہے۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق پوری دہلی میں تقریباً 16.3 لاکھ افراد ایسے مانیٹروں کے چار کلومیٹر کے دائرے میں رہتے ہیں جہاں آج اے کیو آئی ’خراب‘ یا اس سے بدتر سطح پر ریکارڈ کیا گیا۔ یہ تعداد تقریباً تین مانیٹروں کے آس پاس کی آبادی کے حساب سے سامنے آتی ہے۔SAANS · Day 108 · ANAND VIHAR READ 375Anand Vihar read 375 this morning. On CPCB's own scale that isVery Poor: “May cause respiratory illness to the people on prolonged exposure.”13.6 lakh people live within 4 km of that monitor. Living within4 km is not the same as… pic.twitter.com/dd9fa4Js1Q— Ajay Maken (@ajaymaken) August 27, 2026اجے ماکن مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ روزانہ ریکارڈ ہونے والے فضائی آلودگی کے اعداد و شمار کو عوام کے سامنے رکھا جانا چاہیے۔ ان کی ’سانس‘ سیریز میں موسم کے اثرات کو الگ کرکے گزشتہ سال کے متعلقہ دنوں سے پی ایم 10 کی سطح کا موازنہ کیا جاتا ہے، تاکہ بارش، ہوا اور درجہ حرارت جیسے عوامل کے باعث پیدا ہونے والے عارضی فرق کو الگ دیکھا جا سکے۔اجے ماکن نے کہا ہے کہ جو اعداد و شمار روزانہ دیکھے جاتے ہیں، انہیں خاموشی سے دبایا نہیں جا سکتا۔ ان کی رپورٹ میں فضائی آلودگی کی مسلسل نگرانی، شفاف اعداد و شمار اور جواب دہی کو دہلی کی ہوا کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔