نئی دہلی: کانگریس کے جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ رندیپ سنگھ سرجے والا نے ملک میں روزگار کی صورت حال کو لے کر مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے نیتی آیوگ کی تازہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت کے دور میں لاکھوں سرکاری آسامیاں خالی پڑی ہیں، جبکہ کروڑوں نوجوان روزگار، تعلیم اور ہنرمندی کی تربیت سے محروم ہیں۔سرجے والا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں اسے بی جے پی حکومت کی سب سے تلخ حقیقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں لاکھوں سرکاری ملازمتیں خالی ہیں، 8.7 کروڑ نوجوان بے روزگار ہیں اور صورت حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بڑی تعداد میں نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کوئی تربیت بھی نہیں لے رہے۔کانگریس رہنما نے کہا کہ یہ اعداد و شمار اپوزیشن کی طرف سے پیش نہیں کیے گئے بلکہ خود حکومت کے ادارے نیتی آیوگ کی تازہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق 15 سے 29 سال کی عمر کے 8.7 کروڑ نوجوان نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، نہ ملازمت کر رہے ہیں اور نہ ہی کسی تربیتی پروگرام میں شامل ہیں۔سرجے والا نے نوجوانوں کی اس صورت حال کے لیے معاشی مشکلات، مہنگی ٹیوشن فیس اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کو بھی ذمہ دار قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مالی مشکلات نے نوجوانوں کے لیے تعلیم جاری رکھنا اور مہنگے تربیتی کورسز اختیار کرنا مشکل بنا دیا ہے۔انہوں نے گریجویٹس کے روزگار سے متعلق اعداد و شمار کو بھی اپنی تنقید کا حصہ بنایا۔ سرجے والا کے مطابق ملک میں صرف 8.25 فیصد گریجویٹس ہی ایسے کام کر پا رہے ہیں جو ان کی تعلیمی قابلیت کے مطابق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑی رقم خرچ کرکے ڈگری حاصل کرنے کے باوجود نوجوانوں کو اپنی قابلیت کے مطابق روزگار نہیں مل رہا۔سرجے والا نے ’اسکل انڈیا‘ اور ہنرمندی کے فروغ کے نام پر حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت بڑے بڑے پروگراموں اور تشہیری مہمات کے ذریعے اپنی کامیابیوں کا ذکر کرتی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ بہت سے نوجوان مہنگے تربیتی کورسز کی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔انہوں نے کہا کہ اگر ملک کی اتنی بڑی نوجوان آبادی تعلیم، روزگار اور ہنرمندی کی تربیت سے محروم ہے تو ’وکست بھارت‘ کا خواب محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔ سرجے والا نے کہا کہ نوجوانوں کو کھوکھلے نعروں کے بجائے مستقل روزگار، معیاری اور سستی تعلیم اور ہنرمندی کی تربیت کے بہتر مواقع درکار ہیں۔سرجے والا نے اپنی پوسٹ کے ساتھ دو اخباری خبروں کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے ہیں۔ ان میں سے ایک خبر میں نیتی آیوگ کی رپورٹ کے حوالے سے 8.7 کروڑ نوجوانوں کے تعلیم، روزگار اور تربیت میں شامل نہ ہونے اور صرف 8.25 فیصد گریجویٹس کو ان کی قابلیت کے مطابق روزگار ملنے کا ذکر ہے۔دوسری خبر میں مرکزی حکومت کے مختلف محکموں میں خالی سرکاری آسامیوں کی تعداد میں اضافے کی خبر دی گئی ہے، جس کے مطابق خالی آسامیوں کی تعداد ایک دہائی میں 4.2 لاکھ سے بڑھ کر 8.24 لاکھ ہو گئی ہے۔ سرجے والا نے انہی اعداد و شمار کو بنیاد بناتے ہوئے مرکزی حکومت کی روزگار پالیسی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ملک کے نوجوانوں کو دعووں اور نعروں کے بجائے حقیقی مواقع فراہم کرنے کی ضرورت