نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے خواتین کے مسائل پر اپنے تازہ پوڈکاسٹ میں خواتین سے اپنی شناخت خود قائم کرنے، اپنی آواز بلند کرنے اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے اپنے حال ہی میں پونے میں منعقدہ ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے ’بریک دی کیج‘ (پنجرہ توڑو) کا خیال پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بیٹی، بیوی اور ماں کی محدود شناخت تک نہیں باندھا جا سکتا۔راہل گاندھی نے کہا کہ وہ پونے میں ملک بھر سے آئی خواتین کے ایک بڑے اجتماع میں لیکچر دینے، اپنی رائے پیش کرنے یا سیاست پر بات کرنے نہیں گئے تھے، بلکہ ان کا مقصد خواتین کے سامنے کچھ خیالات اور ایک ایسا خاکہ رکھنا تھا جس سے وہ خود سوچ سکیں، اپنی بات کہہ سکیں اور اپنی آواز خود بن سکیں۔انہوں نے کہا، ’’آپ منفرد ہیں، خاص ہیں، ایک الگ انسان ہیں۔ آپ کے اپنے خواب ہیں اور اپنی زندگی کے لیے اپنا نظریہ ہے۔‘‘ ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ملک کی خواتین ہی اس کی اصل طاقت اور سب سے بڑی دولت ہیں۔ ان کے مطابق ملک کی 70 کروڑ خواتین 70 کروڑ منفرد سفر، تصورات اور خوابوں کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔راہل گاندھی نے خواتین کو صرف بیٹی، بیوی اور ماں کے کردار میں دیکھنے والی ذہنیت پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کرداروں میں کوئی برائی نہیں، لیکن یہ کسی خاتون کی واحد شناخت نہیں ہوسکتے۔ ان کے بقول، ان تینوں شناختوں میں عورت کی پہچان کسی مرد کے ساتھ اس کے رشتے کے ذریعے طے کی جاتی ہے۔انہوں نے منواسمرتی کی ایک عبارت کا حوالہ دیتے ہوئے اس سوچ کو شرمناک قرار دیا جس کے مطابق عورت کو بچپن میں والد، جوانی میں شوہر اور شوہر کی موت کے بعد بیٹوں کے تابع سمجھا جاتا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ عورت کسی اور کی ملکیت نہیں بلکہ اپنی ذات کی مالک ہے۔ والد، بھائی، شوہر یا بیٹے کے ساتھ اس کے رشتے ضرور ہوسکتے ہیں، لیکن وہ کسی کی ملکیت نہیں ہے۔خواتین پر ’کنٹرول‘ کے حوالے سے راہل گاندھی نے تین پہلوؤں کا ذکر کیا: تشدد، بے توقیری اور وقت پر کنٹرول۔ انہوں نے خواتین کے خلاف جنسی اور جسمانی تشدد، ہراسانی، معاشی عدم مساوات اور سماجی دباؤ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو تعلیم اور ملازمت چھوڑنے تک پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جبکہ محفوظ سفر کے لیے بھی انہیں اضافی رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔انہوں نے خواتین کی معاشی خودمختاری اور کام کے حوالے سے بھی عدم مساوات کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق صرف 8 فیصد خواتین کے پاس اپنی جائیداد ہے، 84 فیصد خواتین کو کام شروع کرنے سے پہلے کسی کی اجازت لینی پڑتی ہے اور تنخواہ لینے والی خواتین اسی کام کے لیے مردوں کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد کم کماتی ہیں۔راہل گاندھی نے گھریلو کام میں صنفی عدم مساوات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 15 سے 29 سال کی ایک عام نوجوان خاتون روزانہ تقریباً ساڑھے پانچ گھنٹے گھریلو کام کرتی ہے، جبکہ اسی گھر میں رہنے والا نوجوان مرد تقریباً 30 منٹ گھریلو کام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی نقل و حرکت، تعلیم، ملازمت اور کیریئر بھی سماجی پابندیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران لڑکیوں کے گالی دینے کو وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے ’کلچرل شاک‘ قرار دیے جانے پر بھی سوال اٹھایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اگر لڑکے گالی دیں تو اسے معمول سمجھا جاتا ہے، لیکن لڑکیاں ایسا کریں تو اسے ’کلچرل شاک‘ قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے موہن بھاگوت کے ریپ سے متعلق بیان کا بھی حوالہ دیا۔راہل گاندھی نے کہا کہ اصل لڑائی کسی ایک قانون یا کسی ایک واقعے کے خلاف نہیں بلکہ اس ذہنیت کے خلاف ہے جو خواتین کو ’پنجرے‘ میں رکھنا چاہتی ہے، انہیں قابو میں رکھنا چاہتی ہے اور انہیں کام کرنے یا بولنے سے روکنا چاہتی ہے، جبکہ مردوں کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی آزادی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ایسا ہندوستان نہیں چاہیے، بلکہ خواتین اور مردوں دونوں کے لیے انصاف اور مساوی احترام درکار ہے۔ انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ بلند آواز میں بولیں، خود پر فخر کریں اور معاشرے میں اپنے مقام کے لیے لڑیں۔