پاکستانی کچن میں موجود ’’کھانے کی کون سی چیز‘‘ خلیجی ممالک لے جانا سنگین جرم ہے؟

Wait 5 sec.

اسلام آباد (25 اگست 2026): پاکستانی باورچی خانوں میں موجود کھانے کی ایک عام سی چیز خلیجی ممالک لے جانا سنگین جرم ہے۔پاکستانی سے لاکھوں افراد بغرض ملازمت یا سیر وتفریح کے لیے خلیجی ممالک کا سفر کرتے ہیں۔ بعض لوگ پاکستان میں کھانوں میں استعمال ہونے والی اشیا بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں، جو انہیں بہت مہنگا پڑتا ہے۔ایسی ہی ایک عام سی چیز جو تقریباً ہر پاکستانی باورچی خانے میں موجود ہوتی ہے، اس کا خلیجی ممالک میں لے جانا سنگین جرم ہے اور اس کے مرتکب افراد کو کڑی سزا ملتی ہے۔یہ عام استعمال کی شے ’’خشخاص‘‘ ہے۔ سفید باریک دانوں والی یہ چیز پاکستان میں جائز ہے اور کئی کھانوں کی لذت بڑھانے کے لیے اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم خلیجی ممالک میں اس کو نشہ آور مادہ سمجھا جاتا ہے اور اس لیے یہ وہاں ممنوع ہے۔خلیجی ممالک نے خشخاش کے حوالے سے سخت ترین پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ مسافر کے پاس چاہیے معمولی مقدار میں ہو، کھانے میں شامل ہو یا نا دانستہ طور پر موجود ہو۔ ایسے فرد کے خلاف یو اے ای اور سعودی عرب کے قوانین کے مطابق سخت کارروائی کی جاتی ہے۔جس شخص کے پاس سے خشخاش نکل آئے تو اس کی فوری گرفتاری اور بھاری جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔ ایسے ملزم کو ڈی پورٹ بھی کیا جا سکتا ہے یا پھر اس کو بلیک لسٹ میں ڈال کر خلیجی ممالک میں داخلے پر مستقل پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔