امریکی وزیر دفاع کی ایران کو دوبارہ نشانہ بنانے کی دھمکی

Wait 5 sec.

واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کا امکان مسترد نہیں کر رہا اور ضرورت پڑنے پر ایران کو دوبارہ نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی وزیر دفاع سے جب سوال کیا گیا کہ کیا ایران کے خلاف فوجی حملے فی الحال روک دیے گئے ہیں تو انہوں نے واضح جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ جس پر انہوں نے کہا کہ اگر مزید فوجی کارروائی کی ضرورت پڑی تو امریکا حملے کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔پیٹ ہیگستھ کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے امریکی فوج کے ساتھ تصادم کی کوشش کی یا صورتحال کو اپنی حد سے آگے بڑھایا تو امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اُٹھائے گا۔ہیگستھ نے امریکی دفاعی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ جنگی صورتحال کے مطابق اپنی تیاریوں اور پیداوار میں مزید جدت اور تیزی پیدا کریں۔اُنہوں نے کہا کہ اس وقت ایران پر اقتصادی دباؤ سب سے زیادہ اثرانداز ہورہا ہے، تاہم واشنگٹن ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے امکان کو کسی صورت مسترد نہیں کر رہا۔انہوں نے خاص طور پر آبنائے ہرمز اور ایران کے اردگرد کے علاقوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ان مقامات پر بھی ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔ایران پر امریکی پابندیاں، چین کا ردِعمل سامنے آگیارپورٹس کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا ایران پر اقتصادی پابندیوں اور مالی دباؤ میں اضافے کی کوششوں میں مصروف ہے، ایران پہلے ہی خبردار کرچکا ہے کہ اقتصادی جنگ اور دباؤ جاری رہنے کی صورت میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔امریکی وزیر دفاع کی تازہ دھمکی سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ کے ساتھ فوجی آپشن بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے۔