’ذات پر مبنی مردم شماری میں تلنگانہ اور بہار والا طریقہ اپنائیں‘، کھڑگے اور راہل نے پی ایم مودی کو لکھا خط

Wait 5 sec.

’’ہندوستان میں سماجی انصاف کی پالیسیاں درست اعداد و شمار کے بغیر پوری نہیں ہو سکتیں۔ الگ الگ ذاتوں کی تعداد اور ان کی سماجی و معاشی حالت کا صحیح اندازہ تبھی ممکن ہے جب ذاتوں کا شمار درست طریقے سے ہو۔ لیکن حکومت نے مردم شماری میں ذات کی جانکاری درج کرنے کے لیے اوپن-انڈیڈ سوال کا طریقہ منتخب کیا ہے، جو گمراہ کن ہے۔‘‘ یہ باتیں راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے نام تحریر کردہ مشترکہ خط میں لکھی ہیں۔ 20 اگست کو لکھا گیا یہ خط آج کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کیا ہے۔भारत में सामाजिक न्याय की नीतियां सही आंकड़ों के बिना पूरी नहीं हो सकतीं। अलग-अलग जातियों की संख्या और उनकी सामाजिक-आर्थिक स्थिति का सही आकलन तभी संभव है, जब जातियों की गिनती सही तरीके से हो।लेकिन सरकार ने जनगणना में जाति की जानकारी दर्ज करने के लिए open-ended प्रश्न का तरीका… pic.twitter.com/ySP3REE7yQ— Congress (@INCIndia) August 25, 2026اس خط میں ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی نے پی ایم مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ذات پر مبنی مردم شماری میں وہی طریقہ اختیار کریں جو تلنگانہ اور بہار میں ہوئے ذات پر مبنی سروے میں نافذ کیا گیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ہندوستان میں ایک ہی ذات الگ الگ علاقوں میں الگ الگ ناموں، ذیلی ذاتوں اور زبانوں سے جانی جاتی ہے۔ ایسے میں اگر ایک ہی ذات مردم شماری میں الگ الگ ناموں سے درج ہوں گے تو ایک ذات ہزاروں ناموں میں تقسیم ہو جائے گی۔ ملک میں لاکھوں ذاتوں کے نام نکلیں گے اور ذات پر مبنی مردم شماری سے حاصل پوری تعداد ہی غیر مفید ہو جائے گی۔‘‘