واشنگٹن: امریکا کی عدالت نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزا معطلی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق امریکی وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزا کی درخواستوں کی پروسیسنگ معطل کرنے کی پالیسی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا ہے۔نیویارک کی ڈسٹرکٹ جج جینیٹ ورگاس نے قرار دیا کہ جنوری میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے نافذ کی گئی پالیسی ان کے قانونی اختیارات سے تجاوز کرتی ہے اور وفاقی امیگریشن قوانین سے متصادم ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے جنوری میں پاکستان، بنگلہ دیش، ایران، روس سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزا کی پروسیسنگ روک دی تھی۔ امریکی انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ ان ممالک کے بعض درخواست گزار مستقبل میں امریکی حکومت پر مالی بوجھ بن سکتے ہیں۔عدالت کا یہ فیصلہ امیگرنٹ حقوق کی تنظیموں، متاثرہ ویزا درخواست گزاروں اور اپنے رشتہ داروں کو امریکا لانے والے امریکی شہریوں کی جانب سے دائر مقدمے کے بعد سامنے آیا۔ جج نے قرار دیا کہ صرف قومیت کی بنیاد پر امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ پر اس طرح کی پابندی عائد کرنا قانونی اختیار سے تجاوز ہے۔یہ پالیسی 21 جنوری 2026 سے نافذ تھی اور گزشتہ کئی ماہ سے 75 ممالک کے شہریوں کی امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ متاثر ہورہی تھی۔یہ فیصلہ خاص طور پر امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ کی معطلی سے متعلق ہے؛ اسے عام وزٹ، اسٹوڈنٹ یا دیگر نان امیگرنٹ ویزا کی پابندی کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔