50 فیصد ٹیرف !‌ کینیڈا کا امریکا سے تجارتی مذاکرات معطل کرنے کا اعلان

Wait 5 sec.

اونٹاریو: کینیڈین وزیرِ اعظم مارک کارنی نے درآمدی اشیا پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے پر امریکا سے تجارتی مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق امریکا نے کینیڈا سے درآمد کی جانے والی بعض اشیا پر 50 فیصد ٹیرف نافذ کردیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔نئے ٹیرف کا اطلاق تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات پر ہوا ہے۔امریکی ٹیرف کے ردعمل میں کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کردیا۔کارنی کا کہنا تھا کہ امریکی تجاویز میں آخری وقت میں کی گئی تبدیلیاں غیر منصفانہ اور معاشی طور پر ناقابلِ قبول تھیں، اس لیے کینیڈا کی مذاکراتی ٹیم کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ اگر امریکا نے کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے تو کینیڈا بھی اسی مالیت کے امریکی سامان پر جوابی ٹیرف عائد کرے گا۔دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کینیڈا کو تجارتی معاہدہ حتمی شکل نہ دینے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے کینیڈا کو اپنی مارکیٹ تک زیادہ سازگار رسائی کی پیشکش کی تھی، تاہم کینیڈا نے معاہدے کو حتمی شکل دینے سے انکار کیا۔نئے امریکی ٹیرف سے امریکا اور کینیڈا کے درمیان پہلے سے جاری تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے تجارتی مذاکرات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔