لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی آج مہاراشٹر کے پونے شہر میں طالبات اور جین-زی خواتین کے ساتھ ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام میں شرکت کرنے والے ہیں۔ اس تقریب میں وہ جین-زی خواتین کو اپنی مشکلات اور مسائل سامنے رکھنے کا موقع دیں گے۔ کوٹا، دہرادون اور پریاگ راج کے بعد پونے چوتھا شہر ہے جہاں ’چھاتروں کی گونج‘ مہم کے تحت اسٹوڈنٹس کے مسائل سامنے رکھے جائیں گے۔ اس پروگرام سے عین قبل کانگریس نے پونے میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں کچھ اہم باتیں سامنے رکھی گئیں۔आज पूरे देश में छात्रों और नौजवानों में आक्रोश है। शुरुआत में ये हवा कहलाती है, लेकिन बाद में ये तूफान बन जाता है।अब इस तूफान की आहट पुणे में सुनाई दे रही है। BJP सरकार को महिलाओं का वोट तो चाहिए लेकिन जब नीति तय करने की बात होती है तो ये महिलाओं को अनदेखा कर देते हैं।हमने… pic.twitter.com/lX5QVsbJlv— Congress (@INCIndia) August 22, 2026کانگریس میڈیا و پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا نے اس پریس کانفرنس کو خطاب کیا جس میں مرکز کی موجودہ مودی حکومت کو خاص طور سے نشانے پر لیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج پورے ملک مین طلبا و نوجوانوں میں غصہ ہے۔ ابتدا میں یہ ہوا کہلاتی ہے، لیکن بعد میں یہ طوفان بن جاتا ہے۔ اب اس طوفان کی سرگوشی پونے میں سنائی دے رہی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’بی جے پی حکومت کو خواتین کا ووٹ تو چاہیے، لیکن جب پالیسی طے کرنے کی بات ہوتی ہے تو یہ خواتین کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم نے یہ سازش خواتین ریزرویشن بل کے ساتھ سرعام دیکھی ہے، کیونکہ بل پاس ہونے کے بعد بھی بی جے پی الگ الگ پہلوؤں کے پیچھے چھپ رہی ہے، لیکن اسے نافذ نہیں کر رہی۔‘‘کوٹا، دہرادون اور پریاگ راج کے بعد آج پونے میں راہل گاندھی کا ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام، لاکھوں طلبہ کی شرکت متوقعپون کھیڑا نے کانگریس کے ذریعہ خواتین کو سیاست میں آگے بڑھائے جانے کا ذکر بھی میڈیا کے سامنے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں اپنی پارٹی پر فخر ہے، جس نے اندرا گاندھی جی، پرینکا گاندھی جی جیسی بے خوف لیڈر اس ملک کو دیں۔ ہمیں اپنی پارٹی پر فخر ہے جہاں سینکڑوں خواتین سیاست میں پرچم لہرا رہی ہیں۔ سونیا گاندھی جی کی قیادت میں ہم نے کئی انتخابات جیتے اور وہ پارٹی کی صدر بھی رہیں۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’خواتین مردوں سے کہیں زیادہ آگے ہیں۔ مرد ان کی برابری نہیں کر پاتے، اس لیے وہ خواتین کو گھروں میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔‘‘हमें अपनी पार्टी पर गर्व है, जिसने इंदिरा गांधी जी, प्रियंका गांधी जी जैसी निडर नेता इस देश को दीं।हमें अपनी पार्टी पर गर्व है, जहां सैकड़ों महिलाएं राजनीति में परचम लहरा रही हैं। श्रीमती सोनिया गांधी जी के नेतृत्व में हमने कई चुनाव जीते और वे पार्टी की भी अध्यक्षा रहीं।… pic.twitter.com/qesnyVa78c— Congress (@INCIndia) August 22, 2026اس دوران پون کھیڑا نے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کی بھی تعریف کی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہمیں راہل گاندھی جی پر فخر ہے، جنھوں نے دہلی میں ان نوجوان خواتین کے ساتھ پریس کانفرنس کی، جنھوں نے تحریکوں میں آواز بلند کی۔ خواتین کو اپنی بات رکھنے کے لیے پلیٹ فارم دینا ہم سبھی کی ذمہ داری ہے، اور ہم فخر کے ساتھ ایسا کر رہے ہیں۔‘‘पुरुषों और महिलाओं की साक्षरता दर में करीब 16% का अंतर है। महिलाओं को स्कूलों और कॉलेजों से दूर रखने की साजिश की गई।महिलाओं के खिलाफ अत्याचार की हर दिन करीब 1,210 FIR दर्ज होती हैं, लेकिन ये सिर्फ वे मामले हैं, जिनकी शिकायत दर्ज हो पाती है। इससे कई गुना ज्यादा महिलाएं ऐसी… pic.twitter.com/q7zWJAlVfN— Congress (@INCIndia) August 22, 2026مرد اور خواتین میں شرح خواندگی کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’مردوں اور خواتین کی شرح خواندگی میں تقریباً 16 فیسد کا فرق ہے۔ خواتین کو اسکولوں اور کالجوں سے دور رکھنے کی سازش کی گئی۔ خواتین کے خلاف مظالم سے متعلق روزانہ تقریباً 1210 ایف آئی آر درج ہوتی ہیں، لیکن یہ صرف وہ معاملے ہیں جن کی شکایت درج ہو پاتی ہے۔ اس سے کئی گنا زیادہ خواتین ایسی ہیں جو خوف، دباؤ اور سماجی بندشوں کے سبب اپنے ساتھ ہوئے مظالم کے خالف آواز تک نہیں اٹھا پاتیں۔‘‘ وہ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’سب سے زیادہ حملے اکثر ان خواتین پر ہوتے ہیں جو آواز اٹھاتی ہیں، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کرتی ہیں اور اپنے حق کے لیے لڑتی ہیں۔ اس لیے ’چھاتروں کی گونج‘ کے موضوع میں خواتین کے ایشوز کو بھی ترجیحی بنیاد پر اٹھایا جا رہا ہے، تاکہ ان کی تعلیم، سیکورٹی اور حقوق کی آواز مضبوطی سے سامنے آئے۔‘‘