کانگریس نے بدھ (21 اکتوبر) کو وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کو ’پی ایم-دکش یوجنا‘ کے نفاذ میں مبینہ خامیوں کو لے کر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارٹی نے کہا کہ جو حکومت ایک منصوبہ کو بھی مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کر سکتی، اسے اقتدار میں بنے رہنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ اپوزیشن پارٹی نے وزیر اعظم پر طنز کستے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کی رخصتی کی تاریخ قریب آ گئی ہے اور اب ’جھولا اٹھانے کا وقت آ گیا ہے‘۔नाम बड़े और दर्शन छोटे! योजना पीएम के नाम पर, लेकिन ज़मीन पर काम उनके दावों की तरह बड़ा शून्य है।मोदी सरकार का सिर्फ़ एक ही काम है - बड़े-बड़े विज्ञापन, हेडलाइन मैनेजमेंट और ज़ीरो डिलीवरी।दो साल से पीएम-दक्ष योजना लागू नहीं होने और बीते वर्षों का आवंटित बजट खर्च नहीं होने से… pic.twitter.com/Y8lKxj3c0m— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) October 21, 2026کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اخبار کا ایک تراشا شیئر کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ’پردھان منتری دکشتا اور کشلتا سمپن ہِت گراہی (پی ایم-دکش) یوجنا‘ کے نفاذ میں سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں۔ اس منصوبہ کا مقصد درج فہرست ذاتوں، دیگر پسماندہ طبقات، معاشی طور پر پسماندہ طبقات، ڈی نوٹیفائیڈ اور خانہ بدوش قبائل نیز صفائی ملازمین سمیت اہل افراد کو ہنرمندی کی تربیت دینا ہے، تاکہ ان کے لیے روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکیں۔رام مندر چندہ چوری: جے رام رمیش کا سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہجے رام رمیش اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’نام بڑے اور درشن چھوٹے! منصوبہ وزیر اعظم کے نام پر، لیکن زمین پر کام ان کے دعوے کی طرح بالکل صفر ہے۔ مودی حکومت کا صرف ایک ہی کام ہے، بڑے بڑے اشتہارات، ہیڈلائن مینجمنٹ اور زیرو ڈیلیوری۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’2 سال سے ’پی ایم-دکش یوجنا‘ نافذ نہ ہونے اور گزشتہ سالوں کا مختص بجٹ خرچ نہ کیے جانے سے مودی حکومت کی ایک اور بڑی ناکامی سامنے آئی ہے۔ جس منصوبہ کا مقصد محروم طبقات کو ہنرمندی، تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا تھا، اسے مودی حکومت نے محض کاغذوں تک محدود کر دیا ہے۔‘‘سی ای سی گیانیش کمار کو کوئی نہیں بچا سکتا، استعفیٰ دینا ہی ہوگا: جے رام رمیشکانگریس لیڈر مزید لکھتے ہیں کہ ’’جو حکومت وزیر اعظم کے نام والے ’دکش‘ منصوبہ کو، جسے بڑے بڑے دعووں کے ساتھ شروع کیا گیا تھا، بھی ’دکشتا‘ کے ساتھ نافذ نہیں کر سکتی، اسے اقتدار میں بنے رہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’مودی جی، ملک کے عوام کی نظروں میں آپ کی حکومت اعتماد کھو چکی ہے۔ حکومت کی ’ایکسپائری‘ نزدیک ہے۔ جھولا اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔ آخر کب تک مودی حکومت جین-زی کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرتی رہے گی؟‘‘ پوسٹ کے آخر میں جے رام رمیش نے سوال پوچھا کہ ’’کیا مودی حکومت ملک کی درج فہرست ذاتوں، دیگر پسماندہ طبقات، معاشی طور پر پسماندہ طبقات اور ڈی نوٹیفائیڈ، خانہ بدوش و نیم خانہ بدوش قبائل سے 2024 کے انتخاب میں 240 نشستوں تک سمٹ جانے کا بدلہ لے رہی ہے؟‘‘