جوہر یونیورسٹی پر اب نیا بحران، ای ڈی کی کارروائی سے بڑھی ہلچل

Wait 5 sec.

رامپور واقع جوہر یونیورسٹی ایک بار پھر تنازعات کے مرکز میں ہے۔ پہلے رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کی جانب سے نقشہ کے بغیر تعمیر کی گئی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے حکم کے بعد یونیورسٹی میں تعلیم کے حوالے سے بحران کا خدشہ گہرا ہو گیا تھا، اب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے ان عمارتوں کو ضبط کرنے کا عمل شروع کیے جانے کی خبروں کے باعث ایک بار پھر طلبا کی تعلیم متاثر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔چند ماہ قبل یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کی کارروائی کے حکم کے بعد نہ صرف طلبا بلکہ سماجوادی پارٹی کے لیڈران و کارکنان بھی مخالفت میں اتر آئے تھے۔ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو بھی یونیورسٹی سے متعلق حکومت کی کارروائی پر سوال اٹھا چکے ہیں۔ ایسے میں اب ای ڈی کی کارروائی کی خبروں کے درمیان ایک بار پھر سیاسی بیان بازی اور احتجاج کا معاملہ گرم ہونے کا خدشہ ہے۔ یونیورسٹی کی عمارتوں کے خلاف کارروائی کا معاملہ اب صرف تعمیراتی ضابطوں تک محدود نہیں رہ گیا ہے۔ اس سے طلبا کی تعلیم، ادارے کی سرگرمیوں اور مقامی سیاست پر بھی اثر پڑنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا معاملہ کمشنر کورٹ میں زیر غور ہے۔ رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ انہدام کے حکم کو یونیورسٹی انتظامیہ نے چیلنج کیا ہے۔ ایسے میں معاملے کا تصفیہ ہونے تک عمارتوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے صورت حال اہم بنی ہوئی ہے۔ اب ای ڈی کی جانب سے عمارتوں کو ضبط کرنے کا عمل شروع کیے جانے کی خبروں سے یہ معاملہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔اس معاملہ میں بار ایسو سی ایشن کے سابق سربراہ ستنام سنگھ مٹو کا کہنا ہے کہ ای ڈی نے جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کی قیمتوں کا اندازہ غلط طریقے سے لگایا ہے۔ یہ سبھی عمارتیں 2006 سے 2014 کے درمیان تعمیر ہوئی ہیں۔ اس وقت عمارتوں کی تعمیر پر خرچ الگ ہوا تھا، جبکہ ای ڈی تعمیر کے خرچ کا اندازہ 2026 کے مطابق لگا رہی ہے، جو کہ پوری طرح غلط ہے۔ دوسری طرف بار ایسو سی ایشن کے سینئر نائب سربراہ سروجیت سنگھ نے ای ڈی کی کارروائی پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ای ڈی منی لانڈرنگ معاملے کی جانچ کر رہی ہے، اور اس کو آر ڈی اے کی کارروائی سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔قابل ذکر ہے کہ جوہر یونیورسٹی کی 40 عمارتوں میں سے 38 کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے آر ڈی اے نے 15 جولائی 2026 کو انہیں منہدم کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس حکم کو ڈویژنل کمشنر کی عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ 22 اکتوبر کو سماعت کے دوران یونیورسٹی کی جانب سے 17 عمارتوں کے نقشے پیش کیے گئے۔ باقی دستاویزات پیش کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں اگلی سماعت 23 نومبر کو مقرر ہے۔ فی الحال انہدام کے حکم پر عبوری روک لگی ہوئی ہے۔