اردن : چرچ میں جنازے پر فائرنگ، 7 افراد ہلاک، 34 زخمی

Wait 5 sec.

اردن کے علاقے کرک میں چرچ کے اندر جنازے کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے 7 افراد ہلاک اور کم از کم 34 زخمی ہوگئے۔یہ افسوسناک واقعہ جمعے کے روز کرک گورنری کے علاقے حمود میں پیش آیا، متعلقہ حکام کے مطابق حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق نامعلوم مسلح افراد ایک گاڑی میں وہاں پہنچے، چرچ میں داخل ہوئے اور جانزے کے شرکاء پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ملزمان واردات کے بعد چرچ سے باہر نکلے اور ایک پک اَپ گاڑی میں ہوائی فائرنگ کرتے باآسانی فرار ہوگئے، تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔بعد ازاں اردن کے وزیر داخلہ مازن الفرايہ نے پریس کانفرنس میں واقعے کو انتہائی افسوسناک اور ہولناک قرار دیتے ہوئے ملزمان کو ’انتہا پسندوں کا ایک گروہ‘ قرار دیا۔اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کرک میں دہشت گردی کی اس کارروائی کا سخت ترین سزاؤں کے ساتھ مقابلہ کیا جائے گا۔بی بی سی کے مطابق حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تصدیق کی گئی ہے، جس میں تین مسلح افراد سڑک سے چرچ کی جانب جاتے دکھائی دیتے ہیں۔فوٹیج میں دو حملہ آور چرچ کے احاطے کے داخلی راستے کی طرف بڑھتے ہیں، کچھ دیر کے لیے پیچھے ہٹتے ہیں اور پھر تیسرے مسلح شخص کے ساتھ دوبارہ آگے بڑھتے نظر آتے ہیں۔ تینوں کے ہاتھوں میں پستول نما ہتھیار دکھائی دیتے ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے دوران چرچ میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، لوگ اپنی جان بچانے کے لیے نشستوں کے نیچے چھپنے لگے، کھڑکیوں سے دور ہٹ گئے جبکہ بعض افراد اپنے بچوں کو اٹھا کر باہر نکلنے کی کوشش کرتے رہے۔The terrorist attack against Karak will be met with the harshest retaliation. Those who delude themselves into thinking that they can divide Jordanians with their bullets have no chance in the face of our unity. All Jordanians, from north to south, are partners in land and fate, and nothing stands between them. Our deepest condolences to the families of the martyrs and we wish a speedy recovery to those injured.Every Jordanian life is precious, and we will strike with an iron fist against those who dare to threaten our nation— عبدالله بن الحسين (@KingAbdullahII) October 23, 2026ایک عینی شاہد خالد المدانات نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ فائرنگ تقریباً 15 منٹ تک جاری رہی، ان کے مطابق کچھ لوگ زمین پر لیٹ کر جان بچانے کی کوشش کررہے تھے، بعض زخمیوں اور جاں بحق افراد کو سنبھال رہے تھے جبکہ کئی افراد اپنے بچوں کو لے کر بھاگ رہے تھے۔ایک خاتون عینی شاہد کے مطابق نماز کے چند لمحوں بعد دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد لوگوں میں چیخ و پکار شروع ہوگئی۔واقعے کے بعد سکیورٹی کے پیش نظر کرک میں اسپتال کے اطراف سڑکیں بند کردی گئیں اور بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔امریکا: اسکول میں فائرنگ سے ٹیچر اور 3 بچے ہلاک