ایمانوئل میکرون نے پیرس میں کیون کی فائرنگ کو نسل پرستی کی کارروائی قرار دے دیا

Wait 5 sec.

پیرس: فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے پیرس میں کیون کی فائرنگ کو دہشت گردی اور نسل پرستی کی کارروائی قرار دے دیا۔روئٹرز کے مطابق ایک مسلح شخص نے پیرس کے نواحی علاقے میں فائرنگ کر کے ایک شخص کو ہلاک اور 5 دیگر کو زخمی کر دیا ہے، جن میں ایک 12 سالہ لڑکی بھی شامل ہے، جسے 8 گولیاں لگیں اور جس کی حالت تشویش ناک ہے۔یہ فائرنگ جمعے کے روز اس وقت ہوئی جب مسلح شخص نے پیرس کے مضافات میں واقع علاقے ٹراپ میں ایک پٹرول پمپ، ایک طبی مرکز اور بچوں کے کھیل کے میدان پر خودکار اسلحے سے گولیاں چلائیں۔حکام نے بتایا کہ 39 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کی شناخت انھوں نے ’کیون ٹی‘ کے نام سے ظاہر کی۔ انسدادِ دہشت گردی کے محکمے نے فائرنگ کے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔مضافاتی علاقے ٹراپ کے مراکش نژاد میئر علی ربیح نے فائرنگ کے واقعے کو ’’نسل پرستانہ‘‘ اور ’’اسلاموفوبک‘‘ قرار دیا، انھوں نے کہا ’’آج جن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا، ان کی جگہ میری والدہ، میرے بھائی یا میری بھابھیاں بھی ہو سکتی تھیں۔‘‘روس یوکرین میلانیا ٹرمپ کی کوششوں سے اولیشکی میں جنگ بندی پر رضامند ہوئے، وائٹ ہاؤسقریبی علاقے لا ویریئر کے میئر نکولا ڈین ویل نے ایک بیان میں کہا کہ مشتبہ شخص ’’یورپی النسل دکھائی دیتا تھا۔‘‘ علی ربیح نے بتایا کہ متاثرین میں سے دو بالترتیب افریقی اور شمالی افریقی نژاد تھے، تاہم انھوں نے دیگر متاثرین کے پس منظر کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’آج جو کچھ ہوا ہے، میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ یہ ایک اہم موڑ ہے، کیوں کہ یہ پہلی بار ہے کہ ہمیں ایک ایسی دہشت گردانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کی منصوبہ بندی ہمارے ہم وطنوں، ہمارے بچوں کو ان کی جلد کے رنگ یا ان کے مذہب کی بنیاد پر قتل کرنے کے لیے کی گئی تھی۔‘‘میکرون نے کہا کہ مسلح شخص نے جان بوجھ کر بعض لوگوں پر گولیاں نہ چلانے کا فیصلہ کیا، کیوں کہ ان کی جلد کا رنگ اور ظاہری شکل مختلف تھی۔