الخلیل میں چوکی پر حملے میں 2 فوجی ہلاک، اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کی عمارتیں مسمار کرنا شروع کر دیں

Wait 5 sec.

الخلیل: مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں حملے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے، جس کے بعد اسرائیلی فوج نے علاقے میں فلسطینیوں کی عمارتیں مسمار کرنا شروع کر دی ہیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ چوکی پر حملہ کرنے والے 2 فلسطینی جوابی فائرنگ میں مارے گئے، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے مقبوضہ علاقے میں بڑے فوجی آپریشن کی دھمکی دی ہے، اسرائیلی انتخابات سے چند روز قبل پیش آئے واقعے سے مغربی کنارے میں کشیدگی بڑھ گئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے شہر الخلیل میں فلسطینیوں کی عمارتیں مسمار کرنا شروع کر دی ہیں۔ یہ کارروائی دو فلسطینی مسلح افراد کے حملے میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد شروع کی گئی ہے۔ وزیرِاعظم نیتن یاہو نے کہا کہ فوج اس محلے کو ’’تباہ کر دے گی‘‘ جہاں سے دونوں حملہ آوروں کا تعلق تھا۔Israel’s Prime Minister has told the army to prepare for the full shutdown of the occupied West Bank after a shooting near Hebron. Israeli forces killed two Palestinians suspected of carrying out a gun attack near a military checkpoint. Al Jazeera’s @nida_journo reports. https://t.co/3J7KYlyf2q— Al Jazeera English (@AJEnglish) October 23, 2026یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب کشیدگی عروج پر ہے۔ یہودی انتہا پسند آبادکار زیتون کی سالانہ فصل کی کٹائی کے دوران فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جب کہ اسرائیل میں عام انتخابات ہونے میں صرف 4 دن باقی تھے۔ایمانوئل میکرون نے پیرس میں کیون کی فائرنگ کو نسل پرستی کی کارروائی قرار دے دیااس حملے کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس میں فوجیوں اور مسلح حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ دکھایا گیا ہے۔ دیگر ویڈیو مناظر میں دو مسلح افراد ایک گاڑی سے نکلتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے پاس بظاہر ایک پستول اور ایک خودکار رائفل ہے۔ وہ چوکی پر تعینات فوجیوں پر فائرنگ شروع کر دیتے ہیں، جس کے جواب میں ان پر بھی گولیاں چلائی جاتی ہیں۔اس واقعے نے جاری انتخابی مہم پر اثر انداز ہونا بھی شروع کر دیا ہے، نیتن یاہو نے کہا کہ ان کی جماعت لیخود جمعے کی صبح کے لیے طے شدہ انتخابی مہم کی تقریبات منسوخ کر دے گی۔واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کے لیے ان فلسطینیوں کے مکانات مسمار کرنا معمول کی بات ہے جن پر اسرائیلیوں کے خلاف حملے کرنے کا شبہ ہو۔ اسرائیلی حقوق کی تنظیموں نے اس عمل کو اجتماعی سزا قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی ہے۔