’بی جے پی کی نااہلی کے سبب منی پور ایک بار پھر لہو لہان‘، منی پور کے تازہ حالات پر کھڑگے کا سخت رد عمل

Wait 5 sec.

’’بی جے پی کی نااہلی کی وجہ سے منی پور ایک بار پھر لہولہان ہو رہا ہے۔ حالیہ تشدد میں 4 بے گناہ شہریوں کا بہیمانہ قتل انتہائی قابل مذمت ہے۔ سوگوار خاندانوں کے ساتھ میری دلی تعزیت ہے۔‘‘ یہ تبصرہ آج کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے منی پور کے تازہ پرتشدد حالات پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بی جے پی حکومت کے تئیں اپنی شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’مئی 2023 سے اب تک 300 سے زیادہ قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور 24,530 افراد انتہائی خراب حالات میں راحتی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ خواتین، بچے اور کمزور طبقوں سے تعلق رکھنے والے خاندان اس طویل المیے کا خمیازہ مسلسل بھگت رہے ہیں۔‘‘Manipur is bleeding again because of BJP’s incompetence! The horrific killing of four innocent civilians in the latest spate of violence is deeply condemnable. My heartfelt condolences to the bereaved families.Since May 2023, over 300 precious lives have been lost, while…— Mallikarjun Kharge (@kharge) October 21, 2026کانگریس صدر نے مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ صدر راج نافذ کرنے سے لے کر وزیر اعلیٰ کو تبدیل کرنے اور اپنی ہی حکومت دوبارہ قائم کرنے تک، بی جے پی کی سیاسی چال بازیوں سے امن قائم نہیں ہو سکا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’وزیر اعظم مودی، جو تشدد شروع ہونے کے بعد تقریباً 29 ماہ تک منی پور کی سرزمین پر قدم رکھنے تک نہیں آئے، پارلیمنٹ میں دی گئی اپنی نام نہاد یقین دہانی کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’اسٹریٹجک لحاظ سے اس انتہائی اہم سرحدی ریاست میں مسلسل خونریزی اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی قانون و انتظام برقرار رکھنے، آئینی حقوق کے تحفظ اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔‘‘اس سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے منی پور میں مسلسل تشدد کے واقعات اور جانی نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے سامنے 3 سوالات رکھے ہیں، جو اس طرح ہیں:جون 2023 میں امت شاہ کی جانب سے تشکیل دی گئی امن کمیٹی کا کیا ہوا؟ امن بحال کرنے، شہریوں کی حفاظت کرنے اور اس حساس سرحدی ریاست میں سلامتی کے مسلسل بڑھتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کیا ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں؟سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ جسٹس گیتا متل کمیٹی کی سفارشات پر کیا کارروائی کی گئی ہے؟ سپریم کورٹ نے راحتی کیمپوں میں ہونے والی 31 غیر فطری اموات کی نشاندہی کی ہے، اس کے باوجود ہزاروں لوگ اب بھی بے گھر کیوں ہیں؟ خواتین، بچوں اور بے گھر خاندانوں کی سلامتی، عزت و وقار اور بازآبادکاری کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟3 سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے، 300 سے زیادہ اموات، صدر راج کے نفاذ اور وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے باوجود، حکمرانی کی اس بھیانک ناکامی کی ذمہ داری کون لے گا؟ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے کارروائی کرنے سے پہلے مزید کتنے بے گناہوں کی جانیں ضائع ہوں گی؟مذکورہ بالا سوالات قائم کرنے کے بعد کھڑگے لکھتے ہیں کہ ’’منی پور انصاف، عزت و وقار، آئینی حقوق اور پائیدار امن کا حق دار ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اسٹریٹجک لحاظ سے اہم سرحدی ریاست ہونے کے ناطے منی پور کی سلامتی اور استحکام کو بی جے پی کے سیاسی مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔