لندن: برطانوی شہزادہ ہیری کی شاہی محل میں واپسی کی خواہش پھر جاگ اٹھی، شاہی خاندان سے دوریاں مٹانے اور والد شاہ چارلس سمیت اہلِ خانہ سے تعلقات بہتر بنانے کے خواہش مند ہیں۔روئٹرز کے مطابق شہزادہ ہیری نے کہا ہے کہ وہ شاہ چارلس اور اپنے خاندان کے دیگر افراد سے تعلقات بحال کرنے کے خواہش مند ہیں۔ 6 سال قبل امریکا منتقل ہونے کے بعد ان کے اور شاہی خاندان کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے تھے۔42 سالہ ہیری، شاہ چارلس کے چھوٹے بیٹے ہیں، 2020 میں انھوں نے اپنی اہلیہ میگھن مارکل کے ساتھ شاہی فرائض سے دست بردار ہو کر کیلیفورنیا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد دونوں نے شاہی ادارے پر کڑی تنقید کی، جس سے برطانوی شاہی خاندان میں شدید اختلافات پیدا ہوئے۔حال ہی میں وہ میگھن اور اپنے دو بچوں کے ساتھ برطانیہ واپس منتقل ہوئے ہیں، ہیری کے اپنے بڑے بھائی اور تخت کے وارث شہزادہ ولیم سے کئی برس سے بہت کم رابطے رہے ہیں، جب کہ حال ہی میں ان کی اپنے والد سے دوبارہ ملاقات ہوئی ہے۔ میگزین جی کیو کو ایک انٹرویو میں ہیری نے کہا کہ وہ خاندان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہتے ہیں۔’سب سے اہم بات صلح کرنا ہے‘ہیری نے جی کیو کو بتایا ’’دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سب کے پیش نظر سب سے اہم بات صلح کرنا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھ سکتے ہیں کہ لوگوں کو ان کے خاندان کی صورت حال میں اتنی دل چسپی کیوں ہے، کیوں کہ لوگ اس سے اپنا تعلق محسوس کر سکتے ہیں۔انھوں نے کہا ’’بہن بھائیوں کے درمیان اختلافات ہوتے ہیں، بچوں اور والدین کے درمیان، یا بچوں اور ان کے کسی ایک والدین کے درمیان تعلقات خراب ہو جاتے ہیں۔‘‘برطانیہ کا سعودی عرب کے دفاع کیلیے بڑا فیصلہہیری کا کہنا تھا کہ اُن کی صلح کی کوششیں دیکھ کر بعض لوگوں کو اپنے رشتے بہتر بنانے کی ترغیب مل سکتی ہے، کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ یہ معاملہ حل ہو لیکن میں چاہتا ہوں کہ یہ حل ہو جائے۔ ہیری کے ترجمان کے مطابق اس بات کا اشارہ شہزادہ ولیم یا شاہی خاندان کے کسی دوسرے فرد کی طرف نہیں تھا۔ڈیوک آف سسیکس شہزادہ ہیری نے جی کیو کو بتایا کہ اگرچہ زخموں کے نشان ہمیشہ باقی رہتے ہیں، تاہم وہ سب کو ماضی کو پیچھے چھوڑنے کی ترغیب دینا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا دنیا میں بھی کافی ڈراما اور لوگوں کی زندگیوں میں بھی بہت سے مسائل ہیں، ایسے میں خاندان کے معاملات کو مزید طول دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ اس قابل نہیں۔’بچے برطانوی اسکول میں خوش ہیں‘طویل انٹرویو میں ہیری نے ان موضوعات پر بھی بات کی جن کا وہ پہلے ذکر کر چکے ہیں، مثلاً 12 سال کی عمر میں اپنی والدہ شہزادی ڈیانا کو کھونے کے اثرات اور ذہنی صحت سے متعلق ان کی مشکلات۔انھوں نے برطانیہ واپس آنے کی وجوہ بھی بیان کیں اور کہا کہ اپنے بچوں کو برطانوی اسکول میں داخل کرانے کے قابل ہونا ان کے لیے بہت اہم ثابت ہوا ہے۔ انھوں نے کہا ’’مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ میرے لیے اتنا اہم ہوگا۔ میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ ہم ایسا کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن اب انھیں اسکول جاتے ہوئے دو ہفتے ہو چکے ہیں۔ وہ وہاں بہت خوش ہیں اور انھیں ایک بالکل مختلف تجربہ مل رہا ہے۔‘‘ہیری نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ برطانوی میڈیا کے ساتھ ان کے کشیدہ تعلقات اب بہتر ہوسکیں گے۔ انہی تعلقات نے، جزوی طور پر، انھیں برطانیہ چھوڑنے پر آمادہ کیا تھا، جب کہ اخبارات کے مختلف اداروں کے خلاف ان کی جانب سے متعدد مقدمات بھی دائر کیے گئے ہیں۔انھوں نے کہا ’’مجھے امید ہے کہ صورت حال بدلے گی۔ کچھ لڑائیاں ایسی تھیں جن کا لڑا جانا ضروری تھا۔ لیکن امید ہے کہ اب ہم سب اس معاملے پر لکیر کھینچ کر آگے بڑھ سکیں گے۔‘‘