جموں و کشمیر میں مساجد کے انتظام و انصرام، مذہبی کنٹرول اور انتظامی مداخلت کے لے کر ایک نیا تنازعہ دیکھنے کو ملا۔ جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی نے ریاست کے ائمہ کے ساتھ ایک آن لائن میٹنگ کے دوران بتایا تھا کہ انہیں وقف بورڈ کی جانب سے تیار کردہ ’یکساں خطبۂ جمعہ‘ دینا ہوگا۔ حالانکہ وادئ کشمیر کے اہم سیاسی لیڈران، علماء اور مذہبی تنظیموں کی شدید مخالفت اور سخت ردعمل کے بعد ڈاکٹر اندرابی کو یہ وضاحت دینی پڑی کہ وقف بورڈ کی جانب سے تیار کیا گیا خطبہ پڑھنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا جائے گا اور نہ ہی کسی کو مجبور کیا جائے گا۔After pushback, Wakf chairperson Dr Darakshan Andrabi said nobody would be forced to deliver a prepared sermon. @bashaaratmasood explains the controversy.https://t.co/uzm86QMhgk— The Indian Express (@IndianExpress) October 22, 2026واضح رہے کہ یہ پورا معاملہ صرف ایک مذہبی خطبہ تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے جموں و کشمیر بورڈ کا تاریخی ڈھانچہ، دفعہ 370 ہٹنے کے بعد کی انتظامی تبدیلی اور سیکورٹی خدشات کے ساتھ ساتھ مذہبی خود مختاری کا ایک بڑا قانونی و سماجی سوال جڑا ہوا ہے۔ اس تنازعہ کی جڑوں کو سمجھنے کے لیے وقف جائیداد اور مساجد کے انتظام و انصرام کی تاریخ کو جاننا ضروری ہے۔1930 کی دہائی میں مسلم کانفرنس کے ذریعے قائم کیا گیا ’مسلم اوقاف ٹرسٹ‘ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی مذہبی جائیدادوں، مزاروں اور بڑی تعداد میں مساجد کا مرکزی محافظ تھا۔ اس کا بنیادی مقصد ان مذہبی اداروں کا انتظام و انصرام، ضابطہ بندی (ریگولیشن) اور ترقی کرنا تھا، ساتھ ہی مسلمانوں کی سماجی اور تعلیمی ترقی کو فروغ دینا بھی اس کے مقاصد میں شامل تھا۔ 2000 کی دہائی کے آغاز میں اور خاص طور سے اگست 2019 میں دفعہ 370 ہٹنے کے بعد جموں و کشمیر وقف بورڈ کے انتظامی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔ مرکزی وقف بورڈ ایکٹ کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مکمل طور پر نافذ کیا گیا، جس سے وقف بورڈ کا کنٹرول انتظامی طور پر مزید مضبوط ہو گیا۔جموں و کشمیر کی مساجد میں ’یونیفارم خطبہ‘ (یکساں جمعہ کا خطبہ) نافذ کرنے کا خیال گزشتہ کچھ سالوں سے انتظامی حلقوں میں موضوع بحث رہا ہے۔ اس کی تاریخ بنیادی طور پر 2023 سے 2026 کے درمیان کی انتظامی کوششوں، سیکورٹی خدشات اور مذہبی ردعمل کی ارد گرد گھومتی ہے۔ دفعہ 370 ہٹنے کے بعد جموں و کشمیر میں مذہبی اور عوامی اداروں کے انتظامی ڈھانچوں میں کئی تبدیلیاں کی گئیں۔ جموں و کشمیر وقف بورڈ کو مزید فعال کیا گیا اور اس کے طریقۂ کار میں انتظامی نگرانی بڑھائی گئی۔واضح رہے کہ جیسے ہی یہ خبر آئی کہ وقف بورڈ نے اماموں کو تیار شدہ خطبہ پڑھنے کی ہدایت دی ہے، جموں و کشمیر کی روایتی مذہبی قیادت، علماء اور سیاسی جماعتوں نے ایک زبان ہو کر اس کی مخالفت شروع کر دی۔ متحدہ متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) اور دیگر مذہبی تنظیموں نے اس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کا خطبہ صرف ایک تقریر نہیں بلکہ اسلام کا ایک داخلی، روایتی اور روحانی حصہ ہے۔ اس میں حکومت یا کسی انتظامی بورڈ کی مداخلت شہریوں کے بنیادی مذہبی حقوق میں براہ راست دخل دینے کے مترادف ہے۔ناقدین اور مفکرین کا استدلال تھا کہ کشمیر کی اپنی ایک مکمل صوفی روایت اور ثقافتی تنوع ہے۔ ہر مسجد، قصبے اور علاقے کی اپنی الگ سماجی اور اخلاقی ضروریات ہوتی ہیں۔ ایسے میں مرکز کی جانب سے تیار کردہ ایک رٹا رٹایا وعظ مسلط کرنا اماموں کی فکری اور مذہبی آزادی کو کچلنے کے مترادف ہے۔ نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور دیگر علاقائی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس اقدام کو وادی کے مذہبی اداروں پر انتظامی قبضہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔قابل ذکر ہے کہ مذہبی لیڈران کے سخت ردعمل، وادی میں بڑھتے ہوئے غصے اور سیاسی دباؤ کے پیش نظر وقف بورڈ انتظامیہ کو اپنے بیان پر وضاحت دینی پڑی۔ چیئرپرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی نے عوامی مخالفت کے بعد واضح کیا کہ تیار کیا گیا خطبہ صرف رہنمائی یا ایک متبادل کے طور پر ہے اور کسی بھی امام پر اسے پڑھنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا جائے گا۔ سخت مخالفت کے باعث یہ تجویز زمینی سطح پر کسی سرکاری یا لازمی قانون کی شکل میں نافذ نہیں ہو سکی۔ فی الحال یہ تجویز محض ایک پالیسی پر مبنی بحث بن کر رہ گئی ہے۔