’’الیکشن کمیشن بی جے پی کی مدد کے لیے کی گئی منصوبہ بند سازش کا ٹھیکرا سافٹ ویئر پر پھوڑنے کی کوشش کر رہا ہے، جو قابل قبول نہیں ہے۔ ووٹر کا نام– ’رام نے یادو کو مارا‘ اور والد کا نام– ’مورکھ چندر یادو‘۔ کسی ووٹر کے والد کا نام ’بی کام‘ تو کسی کا نام ’رام نے شرما کا نام‘... یہ انٹریز ہیں جمعہ کو ہوئے اتر پردیش قانون ساز کونسل انتخاب کی ووٹر لسٹ میں۔ جب یہ ’غلطیاں‘ اتر پردیش قانون ساز کونسل میں سامنے آئی ہیں، تو یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ایسا دوسرے انتخابات میں نہیں ہوا؟‘‘ یہ سوال کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اٹھایا ہے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ایک بار پھر کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔चुनाव आयोग भाजपा की मदद के लिए की गई सुनियोजित साज़िश का ठीकरा सॉफ़्टवेयर पर फोड़ने की कोशिश कर रहा है, जो स्वीकार्य नहीं है।मतदाता का नाम - ‘राम ने यादव को मारा’ और पिता का नाम - ‘मूर्ख चंद्र यादव’। किसी मतदाता के पिता का नाम ‘बी. कॉम’, तो किसी का नाम ‘राम ने शर्मा का नाम’…… pic.twitter.com/rAquDdX2Lk— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) October 24, 2026دراصل اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخاب میں ووٹنگ کے بعد جمعہ کو کئی ایسی خبریں سامنے آئیں، جن میں ووٹر لسٹ کی خامیاں ظاہر کی گئیں۔ الیکشن کمیشن نے ان غلطیوں کو سافٹ ویئر کی خامیاں قرار دیا، لیکن اپوزیشن پارٹیاں اسے سازش بتا رہی ہیں۔ اس درمیان کچھ حیرت انگیز خامیوں کی مثالیں سامنے رکھتے ہوئے آج جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر طویل پوسٹ ڈالی ہے۔ اس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر بی جے پی کی مدد کرنے کا سنگین الزام عائد کیا۔ انھوں نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ ووٹر لسٹ میں جو غلطیاں سامنے آئی ہیں، وہ سافٹ ویئر کی نہیں، الیکشن کمیشن کی ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’کیا ہندوستان کی جمہوریت اور ووٹر لسٹ کی شفافیت کو سافٹ ویئر اور ای سی آئی نیٹ کے بھروسے چھوڑ دیا گیا ہے؟ ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، سافٹ ویئر کی نہیں۔‘‘چیف الیکشن کمیشن کو ہدف تنقید بناتے ہوئے جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’الیکشن افسر کا یہ بیان 2 الیکشن کمشنرز کے سوالات اور اپوزیشن کے اس اعتماد کو پختہ کرتا ہے کہ الیکشن کمیشن کو آئین کے التزامات کے برعکس، غیر آئینی طریقے سے چلایا جا رہا ہے۔ ووٹر لسٹس کو ہر طرح کی گڑبڑی سے پاک رکھنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، تاکہ کسی بھی ووٹر کو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے میں پریشانی نہ ہو۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’اس سے قبل پیلی بھیت میں ووٹ چوری کا معاملہ سامنے آیا تھا، جہاں فارم-8 کے ذریعہ 10470 ووٹرس کی جانکاریوں میں تبدیلی کی گئی، جبکہ ان تبدیلیوں کی حمایت میں کوئی معاون ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ جن ووٹرس کی تفصیلات بدلی گئیں، ان میں بیشتر ایک خاص طبقہ سے ہیں، جنھیں بی جے پی نے لگاتار ظلم کا نشانہ بنایا ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ ایسی گڑبڑیوں کے سبب ووٹنگ کے وقت اہل ووٹرس کو حق رائے دہی سے محروم کیے جانے کی سازش کا اندیشہ ہے۔ اس کے علاوہ ایس آئی آر کے بعد جاری ووٹر لسٹ سے نام غائب ہونے اور آن لائن ایپک نمبر تلاش کرنے پر غلط تفصیل سامنے آنے کی شکایتیں بھی ملی ہیں۔’ووٹ چور‘ گیانو چھوٹے پیادوں کو نمٹا کر خود کو بچانے میں مصروف ہے: کانگریسکانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اس معاملہ میں اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ابھی تک الیکشن کمیشن نے کانگریس اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے مطالبہ کے مطابق مشین ریڈیبل ڈاٹا بھی دستیاب نہیں کرایا ہے۔ پورا ڈاٹا سامنے آنے پر ووٹر لسٹ کی گڑبڑیوں کی وسعت اور جوابدہی سے جڑے سوالات کی مزید واضح جانچ ہو سکے گی۔‘‘ انھوں نے آئندہ سال ہونے والے اتر پردیش اسمبلی انتخاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب میں کچھ ہی ماہ باقی ہیں، لیکن سامنے آ رہے یہ معاملے ووٹرز کے حقوق اور انتخابی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ ووٹر لسٹ میں نام جوڑنے اور ہٹانے کے عمل میں مقررہ نوٹس اور سماعت کے اصولوں پر عمل ہوا یا نہیں، اس کی غیر جانبداری سے جانچ ہونی چاہیے۔‘‘ایس آئی آر کے موجودہ عمل پر تنقید کرتے ہوئے جئے رام رمیش نے کہا کہ جس ایس آئی آر کا اعلانیہ مقصد ووٹر لسٹس کو شفاف بنانا تھا، اسی نے ووٹر لسٹ کو شبہات کے گھیرے میں لا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ملک کے لوگوں کے من میں گزشتہ لوک سبھا انتخاب اور ہریانہ، مہاراشٹر، مغربی بنگال وغیرہ ریاستوں میں اسمبلی انتخاب کی چوری کا شبہ اب یقین میں بدلتا جا رہا ہے۔ ہمارا واضح خیال ہے کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن سے ملی بھگت کر کے انتخاب میں چوری کی بنیاد پر فتح حاصل کی ہے۔‘‘’آئیے سمجھیں اتراکھنڈ میں مودی-گیانو کی ووٹ چوری کا کھیل‘، کانگریس کی سوشل میڈیا پوسٹ ہو رہی وائرلاس سوشل میڈیا پوسٹ میں جئے رام رمیش نے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کے ذریعہ ’ووٹ چوری‘ معاملہ پر لگاتار اٹھائے جا رہے سوالات کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ووٹ چوری پر راہل گاندھی کے سوالات سے بوکھلائے وزیر اعظم اور بی جے پی عوام کے حقیقی سوالات کا جواب دینے کی جگہ لگاتار راہل گاندھی پر ذاتی حملے کر رہے ہیں۔ بی جے پی یہ جان لے کہ ملک گزشتہ 12 سالوں میں اس کے بے معنی ہتھکنڈوں کو پہچان چکا ہے۔ اب یہ کاٹھ کی ہانڈی بار بار نہیں چڑھے گی۔‘‘ آخر میں وہ یہ بھی لکتے ہیں کہ ’’ہمارا واضح مطالبہ ہے- چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار فوراً استعفیٰ دیں اور بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے جاری اس فرضی ایس آئی آر پر فوراً روک لگنی چاہیے۔ ووٹر لسٹ کی غیر جانبدارانہ جانچ بھی ہو اور پورا مشین ریڈیبل ڈاٹا سامنے لایا جائے تاکہ ہر اہل شہری کے حق رائے دہی کی حفاظت یقینی ہو سکے۔‘‘