پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے لیے نئی دوا کے ٹرائل

Wait 5 sec.

پروسٹیٹ کینسر کے علاج میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے، جانسن اینڈ جانسن کی تجرباتی دوا سے ٹیومر سکڑنے لگے، نئی دوا نے کینسر کے مریضوں میں حوصلہ افزا نتائج دے دیے۔غیرملکی خبر رساں ادارے رؤئٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی دوا ساز کمپنی جانسن اینڈ جانسن کی نئی دوا کی ٹرائل کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، جس کے بعد مریضوں میں امید کی کرن پیدا ہوگئی۔امریکی دوا ساز کمپنی جانسن اینڈ جانسن نے پروسٹیٹ کینسر کے علاج کے لیے تیار کی جانے والی اپنی تجرباتی دوا کے ابتدائی کلینیکل ٹرائل کے حوصلہ افزا نتائج جاری کردیے ہیں، جن کے مطابق دوا کے استعمال سے بعض مریضوں میں ٹیومر مکمل طور پر ختم ہوگئے جبکہ متعدد مریضوں میں ٹیومر کا حجم کم ہوا۔کمپنی کے مطابق جے این جے 6143 نامی یہ دوا روزانہ ایک مرتبہ گولی (ٹیبلٹ) کی صورت استعمال کی جاتی ہے۔ اس دوا کا تجربہ ایسے مریضوں پر کیا گیا جو ایڈوانسڈ پروسٹیٹ کینسر کا شکار تھے اور اس سے قبل متعدد مرتبہ علاج کروا چکے تھے۔ابتدائی آزمائش میں 50 ملی گرام خوراک لینے والے 31 ایسے مریضوں کا جائزہ لیا گیا جن کے نتائج قابلِ تجزیہ تھے۔ ان میں سے 77 فیصد مریضوں میں پی ایس اے کی سطح کم از کم 50 فیصد کم ہوئی۔پی ایس اے کیا ہے؟پی ایس اے خون میں موجود ایک اہم بائیو مارکر ہے جسے پروسٹیٹ کینسر کی نگرانی اور علاج کے ردعمل کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اسی گروپ میں 48 فیصد مریضوں کی پی ایس اے سطح میں کم از کم 90 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو دوا کے ابتدائی اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔جن مریضوں کے ٹیومر کا طبی امیجنگ کے ذریعے باقاعدگی سے جائزہ لینا ممکن تھا، ان میں 69 فیصد مریضوں نے مکمل یا جزوی ردعمل ظاہر کیا، یعنی یا تو ٹیومر مکمل طور پر ختم ہوگیا یا اس کے حجم میں نمایاں کمی آئی۔جانسن اینڈ جانسن کے ترجمان کے مطابق یہ دوا کمپنی کے پروسٹیٹ کینسر کے علاج سے متعلق ادویات کے ذخیرے میں ایک نیا طریقۂ کار شامل کرتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ جے این جے 6143 کینسر کے خلیوں کو ہلاک کرنے کے لیے ایک منفرد طریقہ اختیار کرتی ہے اور ایسے پروٹین کو متاثر کرتی ہے جس کی کینسر کے خلیوں کو زندہ  رہنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔دوا کے سائیڈ ایفیکٹستاہم دوا کے استعمال سے بعض مضر اثرات بھی سامنے آئے، آزمائش میں عام طور پر رپورٹ ہونے والے سائیڈ ایفیکٹس میں متلی، کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ کی سطح میں اضافہ شامل تھا، جبکہ ایک مریض نے مضر اثرات کے باعث علاج ترک کردیا۔اس تجربے کے نتائج یورپی سوسائٹی فار میڈیکل آنکولوجی کانگریس میں پیش کیے گئے چونکہ یہ ابتدائی مرحلے کی آزمائش ہے، اس لیے دوا کی افادیت اور حفاظت کی حتمی تصدیق کے لیے مزید اور بڑے پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہوگی۔پروسٹیٹ کینسر کے علاج میں اہم پیش رفت، نئی دوا تیار