سیئول: شمالی کوریا کی جانب سے تازہ دھمکیوں نے سیئول پر دباؤ میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔روئٹرز کے مطابق پیانگ یانگ کی جانب سے تازہ دھمکیوں نے جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کی بین الکوریائی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو دھچکا پہنچایا ہے۔ان دھمکیوں کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان بھاری فوجی حفاظتی انتظامات والی سرحد پر تناؤ اس حد تک بڑھ گیا ہے جو گزشتہ سال جون میں لی جے میونگ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بلند ترین ہے۔شمالی اور جنوبی کوریا تاریخی طور پر سرحد پار پروپیگنڈا نشر کرنے کے لیے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرتے رہے ہیں۔ جنوبی کوریا کی نشریات میں کے پاپ موسیقی اور خبریں شامل ہوتی ہیں، جو طویل عرصے سے پیانگ یانگ کو ناگوار گزرتی رہی ہیں اور اس کے جواب میں شمالی کوریا بھی اسی نوعیت کے اقدامات کرتا رہا ہے۔دونوں کوریاؤں کے درمیان ایک غیر فوجی علاقہ حائل ہے، جو 1950 سے 1953 کی کوریائی جنگ کے جنگ بندی معاہدے پر ختم ہونے کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ شمالی کوریا 2024 سے اس علاقے میں اپنی جانب بارودی سرنگیں بچھا کر، رکاوٹیں کھڑی کر کے اور باڑیں لگا کر دفاعی انتظامات مضبوط کر رہا ہے، جس کا مقصد جنوبی کوریا کے ساتھ ایک ایسی سرحد قائم کرنا ہے جسے وہ مستقل سرحد قرار دیتا ہے۔کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے جنوبی کوریا کو دھمکی دے دی، بارڈر پر لاؤڈ اسپیکرز نصب کرنے کی تیاریجنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ غیر فوجی علاقے میں شمالی کوریا کی جانب سے دفاعی انتظامات کے تحت بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے باعث گزشتہ ماہ ایک دھماکا ہوا، جس میں دو فوجی شدید زخمی ہوئے۔ شمالی کوریا نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے جنوبی کوریا کا گھڑا ہوا واقعہ قرار دیا ہے۔اقتدار سنبھالنے کے بعد سے صدر لی جے میونگ نے شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی روابط بڑھانے اور کشیدگی کم کرنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے، باوجود اس کے کہ پیانگ یانگ نے مذاکرات کی بحالی سے انکار کیا ہے اور جنوبی کوریا کو ایک دشمن ریاست قرار دیا ہے۔ان کی حکومت نے گزشتہ سال جنوبی کوریا کی جانب سے لاؤڈ اسپیکر پر نشریات بند کر دی تھیں اور سرحد پر نصب مستقل لاؤڈ اسپیکر ہٹانا شروع کر دیے تھے۔ سیئول نے ان اقدامات کو دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اہم قرار دیا تھا۔ ان اقدامات کے بعد شمالی کوریا نے بھی جنوب کی جانب اپنی نشریات معطل کر دی تھیں۔سیئول کی کیونگنام یونیورسٹی کے پروفیسر لِم اَول چُل نے کہا کہ کم یو جونگ کی تازہ دھمکیوں کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ لاؤڈ اسپیکر فوری طور پر فعال کر دیے جائیں گے۔تاہم، ان کے بقول، ان دھمکیوں نے صدر لی کی حکومت کو ایک ’’بڑے مخمصے‘‘ سے دوچار کر دیا ہے، کیوں کہ اسے ایک طرف پُرامن روابط کی اپنی پالیسی برقرار رکھنے اور دوسری طرف سرحد پر شمالی کوریا کی جارحانہ فوجی سرگرمیوں کو قابو میں رکھنے کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا۔