کلبرگی: کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا ہے کہ وہ بدھ کو وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر)، پارلیمانی حلقوں کی مجوزہ حد بندی اور خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنے میں ہو رہی تاخیر سمیت مختلف اہم مسائل پر تفصیل سے اپنی بات رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان معاملات کے ممکنہ منفی اثرات سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا جائے گا۔کرناٹک کے کلبرگی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کھڑگے سے جب مرکزی وزیر کرن رجیجو کے خط کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ دسہرے کے تہوار کے پیش نظر وہ اس دن کوئی سیاسی بات نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم، انہوں نے بتایا کہ وہ وزیر اعظم کو ذاتی طور پر خط لکھ چکے ہیں اور ان کی جانب سے دو خطوط موصول ہو چکے ہیں۔ وہ بدھ کو تمام معاملات کی تفصیلات وزیر اعظم کے سامنے رکھیں گے۔کھڑگے کے مطابق، ان کی گفتگو میں ایس آئی آر کے ممکنہ نقصانات، مجوزہ حد بندی کے منفی اثرات اور خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنے میں تاخیر جیسے مسائل شامل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان معاملات پر اپنا موقف تفصیل سے واضح کریں گے۔دسہرے کی مبارک باد دیتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ یہ پورے ملک میں منایا جانے والا ایک اہم تہوار ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ سب کے لیے خوشیاں لے کر آئے گا۔ انہوں نے کرناٹک میں بارش کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اوسط سے 40 فیصد سے بھی کم بارش ہونے کے سبب لوگوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے حالات میں لوگوں کو راحت ملنے کے لیے قدرت کا ساتھ دینا ضروری ہے۔کھڑگے نے کہا کہ دسہرے کا تہوار کرناٹک میں بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ کلیان کرناٹک خطے، خصوصاً گلبرگہ میں بھی ایک بڑا پروگرام منعقد کیا جائے، جو مقامی لوگوں میں مقبولیت حاصل کرنے کے ساتھ پورے کرناٹک کو متحد کرنے میں مددگار ثابت ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سے بات چیت کی جائے گی۔دوسری جانب، مرکزی وزیر کرن رجیجو نے پیر کو کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کو خط لکھ کر حد بندی ترمیمی بل پر اپوزیشن سے رابطے کی حکومتی کوششوں کی تفصیلات پیش کیں۔ رجیجو نے اپنے خط میں کہا کہ حکومت نے حد بندی ترمیمی بل پر غور اور اسے منظور کرانے کے لیے مسلسل اپوزیشن سے تعاون طلب کیا ہے۔ ان کے مطابق، اہم اپوزیشن جماعت ہونے کی وجہ سے کانگریس سے کئی مواقع پر رابطہ کیا گیا اور اس سلسلے میں خطوط بھی لکھے گئے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کھڑگے سے ذاتی طور پر بھی اس معاملے پر بات کی اور ان کی حمایت طلب کی تھی۔ اس کے علاوہ، پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی سے بھی ملاقات کرکے تعاون کی درخواست کی گئی تھی۔ رجیجو کے مطابق، بار بار درخواست کے باوجود کانگریس نے بات چیت کے لیے کوئی تاریخ نہیں دی، جس کے بعد حکومت نے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطہ کیا۔