ڈومبیولی: بھارتی شہر ڈومبیولی میں 28 سال پرانے قتل کا معمہ حل ہوگیا، پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم نے اپنی بہن کو طلاق دینے کی دیرینہ دشمنی اور رنجش کو دل میں پال رکھا تھا اور ایک سازش کے تحت اپنے 2 ساتھیوں کی مدد سے بہنوئی کا قتل کرکے لاش ریلوے ٹریک پر پھینک دی تھی تاکہ اسے ٹرین حادثہ قرار دیا جا سکے۔1998 میں ڈومبیولی اور کوپر ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان پٹریوں سے ایک شخص کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی تھی۔ ابتدائی مرحلے میں ریلوے پولیس کی جانب سے اسے محض ایک ٹرین حادثہ تصور کیا جا رہا تھا۔تفتیشی عمل کے دوران متوفی کی شناخت شیلیش مورے کے طور پر ہوئی۔ لاش کی نوعیت اور شواہد کی بنیاد پر شک ہوا تو پولیس نے باقاعدہ قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے باریک بینی سے تحقیقات شروع کیں۔پولیس کے مطابق شیلیش مورے کا اپنی بیوی سے تنازع کے بعد طلاق کا معاملہ پیش آیا تھا جس کے باعث سندیپ کرشنن اپنے بہنوئی سے شدید ناراض تھا۔ اسی انتقام کی آگ میں سندیپ کرشنن نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر خونی منصوبہ تیار کیا۔ملزمان نے ایک پارٹی کے بہانے شیلیش کو مدعو کیا اور پتھروں سے وحشیانہ انداز میں کچل کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بعد ازاں واردات پر پردہ ڈالنے اور پولیس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی غرض سے لاش کو پٹریوں کے درمیان ڈال دیا گیا تاکہ واقعہ محض ایک ریلوے حادثہ معلوم ہو۔واردات کے فوراً بعد تمام نامزد ملزمان جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے تھے جس کی وجہ سے کیس برسوں تک سرد خانے کی نذر رہا۔پولیس نے بتایا کہ فرار ملزمان کی تلاش کے تحت پولیس نے مختلف معاملات میں فرار ملزمان کی فہرست بنائی اور تکنیکی معلومات اور سراغ رساں ذرائع کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے 28 سال قبل شیلیش مورے کے قتل میں ماخوذ کئے گئے سبھی ملزمان کی تکنیکی معلومات حاصل کی گئیں۔ملزم سندیپ کرشنن کو طویل عرصے بعد بہار کے ایک دور دراز علاقے سے پکڑا گیا۔ گرفتاری کے بعد ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے تمام شواہد کا جائزہ لیتے ہوئے اسے پولیس تحویل میں بھیجنے کے احکامات جاری کئے۔نئی دہلی میں دسہرہ کی مذہبی تقریبات : راون کے ساتھ 30 فٹ بلند کاکروچ کا پتلا نذر آتشپولیس کا کہنا ہے کہ اس پرانے قتل کیس کے باقی ماندہ 2 مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور بہت جلد انہیں بھی گرفتار کرلیا جائے گا۔