واشنگٹن: امریکی وفاقی ہوا بازی انتظامیہ (ایف اے اے) نے بوئنگ کے طویل عرصے سے زیرِ التوا مسافر طیارے 737 میکس 10 کو حتمی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد طیاروں کی فراہمی شروع کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔روئٹرز کے مطابق بوئنگ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ماڈل کا پہلا طیارہ اگلے سال کے آغاز میں کینیڈین ایئرلائن ویسٹ جیٹ کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے۔بوئنگ 2020 کی دہائی کے آغاز سے اس طیارے کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ میکس 10 میں زیادہ سے زیادہ 230 مسافر سوار ہو سکتے ہیں۔ کمپنی کو اب تک اس ماڈل کے 1,550 سے زیادہ آرڈرز مل چکے ہیں، جو اس کے زیرِ التوا 737 طیاروں کے مجموعی آرڈرز کا 31 فی صد ہیں۔کمپنی کو توقع ہے کہ میکس 10 کی فراہمی اس کی مالی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ تاہم، منظوری میں تاخیر کے دوران یورپی حریف ایئربس کے اے 321 نیو طیارے نے بڑی گنجائش والے سنگل آئل طیاروں کی مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھا دیا ہے۔میکس 10 کے بڑے خریداروں میں یونائیٹڈ، الاسکا، رائن ایئر، ڈیلٹا اور امریکن ایئرلائنز شامل ہیں۔ بوئنگ کے طیاروں کی جانچ اور منظوری کا عمل 2018 اور 2019 میں 737 میکس 8 کے دو حادثات میں 346 افراد کی ہلاکت کے بعد سخت کر دیا گیا تھا۔ جنوری 2024 میں الاسکا ایئرلائنز کے ایک میکس 9 طیارے کا کیبن پینل دورانِ پرواز اکھڑنے کے واقعے کے بعد کمپنی کے پیداواری اور حفاظتی نظام کی جانچ مزید سخت ہوئی۔ریاض ایئر اور السعودیہ کا پاکستان کے لیے اضافی پروازوں کا فیصلہایف اے اے نے میکس 10 میں نظامِ پرواز اور حملے کے زاویے کو جانچنے والے سینسر سمیت اہم تکنیکی بہتریاں بھی لازمی قرار دی ہیں۔ ان تبدیلیوں کو آئندہ چند برسوں میں پہلے سے زیرِ استعمال طیاروں میں بھی شامل کیا جائے گا۔ انجنوں کے برف جمنے سے بچاؤ کے نظام اور نیویگیشن سافٹ ویئر کے مسائل نے بھی منظوری میں تاخیر کی، تاہم ایف اے اے نے سافٹ ویئر کی تازہ خرابی کو طیارے کی حفاظت کے لیے خطرہ قرار نہیں دیا۔بوئنگ اب کینیڈا اور یورپی یونین کے متعلقہ اداروں سے بھی منظوری حاصل کرنے کی توقع رکھتی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ عمل چند ماہ میں مکمل ہو سکتا ہے۔ اس دوران بوئنگ کی ٹیم کے بعض ارکان 777-9 طیارے کی منظوری پر کام کریں گے، جو مقررہ وقت سے 6 سال پیچھے ہے۔ کمپنی کو امید ہے کہ اس طیارے کی منظوری اور فراہمی 2027 میں شروع ہو جائے گی۔امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے بوئنگ کے کارخانے میں منظوری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکی طیارہ سازی کی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے منظوری کا عمل تیز کرنا ضروری ہے۔