پیلی بھیت: ووٹر لسٹ میں گڑبڑی معاملے پر 2 ایس ڈی ایم اور ایک کمپیوٹر آپریٹر کے خلاف ایف آئی آر درج

Wait 5 sec.

اتر پردیش کے پیلی بھیت میں ووٹر لسٹ میں گڑبڑی کے معاملے میں بڑی کارروائی کی گئی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ آلوک کمار کے مطابق اس معاملے میں 2 ایس ڈی ایم اور ایک کمپیوٹر آپریٹر سمیت 3 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ میں گڑبڑی سامنے آنے کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے معاملے کی جانچ کے بعد ذمہ دار افسران اور ملازمین کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت دی تھی۔पीलीभीत में SIR के दौरान वोटर लिस्ट में गड़बड़ी, दो SDM समेत तीन पर FIR दर्ज। इस पर क्या बोले बीजेपी प्रवक्ता सिद्धार्थ यादव और कांग्रेस प्रवक्ता पूजा त्रिपाठी, सुनिए#ATVideo #Dangal #Uttarpradesh #SIR #Pilibhit #VoterList | @sahiljoshii | @SidharthYadavIN | @Pooja_Tripathii pic.twitter.com/yzlPVUvBe9— AajTak (@aajtak) October 22, 2026دراصل یہ معاملہ پیلی بھیت صدر اسمبلی حلقہ کی ووٹر لسٹ سے متعلق ہے۔ اتر پردیش کے چیف الیکٹورل آفیسر نودیپ رِنوا کو شکایت ملی تھی کہ آن لائن پورٹل پر ووٹر شناختی کارڈ یعنی ای پی آئی سی نمبر درج کرنے پر کسی دوسرے ووٹر کی تفصیلات ظاہر ہو رہی ہیں۔ معاملے کی جانچ کرائی گئی تو ووٹر لسٹ میں گڑبڑی کی تصدیق ہوئی۔ چیف الیکٹورل آفیسر کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق پیلی بھیت کی ووٹر لسٹ میں سامنے آنے والی گڑبڑیوں کو فوری طور پر درست کرنے کو کہا گیا ہے۔ متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او) اور وی آر سی آپریٹر کو ووٹر لسٹ سے متعلق کام سے ہٹانے کی ہدایت بھی دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی ذمہ دار افراد کے خلاف عوامی نمائندگی ایکٹ، 1950 کی دفعہ 32 اور اور بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کرنے کو کہا گیا ہے۔ضلع الیکشن آفیسر کو پیلی بھیت ضلع کے تمام اسمبلی حلقوں کی ووٹر لسٹ کی تفصیلی جانچ کر کے 2 دن کے اندر جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اتر پردیش کے باقی اضلاع کے الیکشن افسران کو بھی اپنے اپنے علاقوں کی ووٹر لسٹوں کی جانچ کرنے اور 2 دن میں رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔یوپی کی ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر گڑبڑی، پیلی بھیت میں 16554 ووٹروں کے ناموں سے چھیڑ چھاڑ: کانگریسقابل ذکر ہے کہ اس سے قبل کانگریس نے پیلی بھیت صدر اسمبلی حلقہ کی ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر ہیر پھیر کا الزام عائد کیا تھا۔ پارٹی کا دعویٰ تھا کہ 13150 ووٹرس کے نام تبدیل کر دیے گئے، جبکہ ان کے ای پی آئی سی (ایپک) نمبر اور سیریل نمبر وہی رہے۔ کانگریس نے 884 ووٹرس کے نام ہٹانے اور 2600 ایسے لوگوں کے نام شامل کرنے کا بھی الزام عائد کیا تھا، جو مبینہ طور پر اس علاقے میں نہیں رہتے۔