دہلی: سرکاری اسکولوں کی کتابوں کی چھپائی میں گھوٹالہ، عآپ نے وزیر تعلیم سے مانگا جواب

Wait 5 sec.

نئی دہلی: دہلی کی ریکھا گپتا حکومت پر عام آدمی پارٹی (عآپ) نے سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو مفت تقسیم کی جانے والی کتابوں کی چھپائی میں بدعنوانی کا الزام عائد کیا ہے۔ آپ کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے دعویٰ کیا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے چھپوائی گئی کتابوں کا معیار مقررہ معیارات کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں تقریباً 40 فیصد کمیشن خوری کا الزام لگاتے ہوئے وزیر تعلیم آشییش سود اور وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا سے جواب طلب کیا ہے۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ کتابوں کی چھپائی کے لیے جاری ٹینڈر میں این سی ای آر ٹی کی کتابوں کے معیار کا ذکر کیا گیا تھا، لیکن سرکاری اسکولوں کے لیے چھپوائی گئی کتابوں میں مبینہ طور پر کم معیار کے کاغذ کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے آٹھویں جماعت کی این سی ای آر ٹی کی کتاب ’ملہار‘ دکھاتے ہوئے بازار سے خریدی گئی کتاب اور دہلی حکومت کی جانب سے چھپوائی گئی کتاب کے معیار میں فرق کا دعویٰ کیا۔آپ لیڈر کے مطابق، پہلی سے آٹھویں جماعت تک کی کتابوں کی چھپائی کے ٹینڈر میں اے فور سائز کے کاغذ اور 80 جی ایس ایم معیار کی شرط درج تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بازار میں دستیاب این سی ای آر ٹی کی کتاب اسی معیار کے کاغذ پر چھپی ہے، جب کہ سرکاری کتاب میں مبینہ طور پر 60 سے 65 جی ایس ایم کا کاغذ استعمال کیا گیا ہے۔بھاردواج نے الزام لگایا کہ سرکاری کتاب کا کاغذ پتلا اور مٹیالا ہے، جب کہ بازار میں دستیاب کتاب کا کاغذ بہتر معیار کا ہے۔ ان کے مطابق، کاغذ کے معیار اور سائز میں فرق کو دیکھتے ہوئے دونوں کتابوں کی قیمت میں کم از کم 40 فیصد کا فرق ہو سکتا ہے۔انہوں نے کتابوں میں چھپائی کے معیار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آٹھویں جماعت کی کتاب میں حروف کا سائز اتنا چھوٹا ہے کہ طلبہ کو پڑھنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ سرکاری کتاب کے پہلے صفحے پر وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی تصویر چھاپی گئی ہے۔سوربھ بھاردواج نے سوال کیا کہ جب ٹینڈر میں کاغذ کے معیار سے متعلق واضح شرائط موجود تھیں تو ان پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا اور اس کی ذمہ داری کس کی ہے۔ انہوں نے وزیر تعلیم آشییش سود سے مبینہ 40 فیصد کمیشن خوری کے معاملے میں جواب دینے کا مطالبہ کیا اور وزیر اعلیٰ سے بھی وضاحت طلب کی۔آپ پردیش صدر نے دعویٰ کیا کہ تعلیمی سیشن کا نصف وقت گزرنے کے باوجود سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو کتابیں تقسیم نہیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے اسے تعلیمی نظام کی سنگین خامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو وقت پر کتابیں اور بہتر سہولیات نہ ملنے سے والدین نجی اسکولوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔بھاردواج نے الزام لگایا کہ دہلی میں بی جے پی حکومت کے دور میں ادویات، سائیکلوں، چاول اور دہلی جل بورڈ کے ٹینڈروں سمیت مختلف معاملات میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کتابوں کی چھپائی میں بھی مبینہ بدعنوانی کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے شفافیت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم سے جڑے معاملے میں کسی بھی طرح کی لاپروائی قابل قبول نہیں ہے اور حکومت کو کتابوں کے معیار، چھپائی کے اخراجات اور تقسیم میں تاخیر کے بارے میں جواب دینا چاہیے۔