البرٹا: کینیڈا کو توڑنے کی کوشش ناکام ہو گئی، البرٹا ریفرنڈم میں علیحدگی پسندوں کو بڑا دھچکا لگ گیا ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق کینیڈا کے تیل سے مالامال صوبے البرٹا کے ووٹروں نے بھاری اکثریت سے کینیڈا کا حصہ رہنے کی حمایت کی ہے، اور بڑھ چڑھ کر علیحدگی کی تجویز مسترد کر دی۔ریفرنڈم میں کینیڈا کا حصہ رہنے کے لیے البرٹا کے 76 فی صد ووٹرز نے حمایت کی، وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے متحد رہنے کے حق میں نتائج کا خیر مقدم کیا، وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا عوام نے اتحاد اور مشترکہ ترقی کا راستہ چنا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق البرٹا کے علیحدگی پسندوں نے ٹرمپ انتظامیہ سے بھی ملاقاتیں کی تھیں، تاہم منگل کو سامنے آنے والے ریفرنڈم کے نتائج نے قومی اتحاد کے لیے وزیر اعظم مارک کارنی کی کوششوں کو تقویت پہنچائی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی جنگ اور کینیڈا کو امریکا میں ضم کرنے کی دھمکیوں نے کینیڈین عوام کو اپنے ملک کے گرد متحد ہونے پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کیا۔پیرس بہت جلد ایک مسلم شہر بن جائے گا، ٹرمپ کا متنازع دعویٰالبرٹا کے انتخابی ادارے کے غیر حتمی نتائج کے مطابق، 19 لاکھ سے زیادہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی تھی اور 90 فی صد پولنگ علاقوں اور مقامات کے نتائج سامنے آ چکے تھے۔ ان نتائج کے مطابق 76 فی صد ووٹروں نے کینیڈا کا حصہ رہنے کی حمایت کی، جب کہ 24 فی صد نے علیحدگی کی جانب پیش رفت شروع کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔یہ ریفرنڈم براہِ راست آزادی کے حق یا مخالفت میں ووٹنگ نہیں تھی۔ اگر علیحدگی کے حامی کامیاب ہو جاتے تو اس سے البرٹا کے لیے کینیڈا سے علیحدگی کے بارے میں مستقبل میں ایک اور ریفرنڈم کی راہ ہموار ہو جاتی۔علیحدگی کے حامیوں کو شکست کا سامنا ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے نئے ریفرنڈم کو خارج از امکان قرار دے دیا، جب کہ البرٹا میں علیحدگی کی تحریک کے منتظم ڈیوڈ پارکر نے شکست کی وسعت کو تسلیم کیا۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر لکھا ’’آزادی اب بہت دور دکھائی دیتی ہے، اور ہمیں یہ دکھاوا نہیں کرنا چاہیے کہ یہ شکست نہیں تھی۔‘‘