نئی دہلی: کانگریس نے اروناچل پردیش سے لے کر مشرقی لداخ تک سرحدی سلامتی سے متعلق متعدد سوال اٹھاتے ہوئے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے میڈیا اور تشہیر کے شعبے کے چیئرمین پون کھیڑا نے الزام لگایا کہ سرحد پر چینی فوج کی سرگرمیوں، ہندوستانی فوج کی گشت کے حقوق اور چین کے ساتھ سفارتی مذاکرات کے نتائج پر حکومت کی پوزیشن واضح نہیں ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر دفاع اور وزیر داخلہ سے پارلیمنٹ میں تفصیلی بیان دینے کا مطالبہ کیا۔اپنے جاری کردہ بیان میں پون کھیڑا نے انڈو تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور کے بیان کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق، کپور نے تصدیق کی ہے کہ اروناچل پردیش کے کئی مقامات پر چینی فوج، پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ آمنے سامنے کی صورت حال برقرار ہے۔ کھیڑا نے کہا کہ یہ صورت حال قومی سلامتی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کرتی ہے۔کانگریس رہنما نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی ان اطلاعات پر تشویش ظاہر کی کہ اروناچل پردیش کے بالائی سوبن سری ضلع کے تکسنگ سیکٹر میں آسافلا اور ماجا کے قریب چینی فوج نے خیمے نصب کر رکھے ہیں۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ مقامات ہندوستان کے دعوے کے مطابق حقیقی خطِ کنٹرول (ایل اے سی) سے 6 سے 7 کلومیٹر اندر ہیں۔کھیڑا نے سوال کیا کہ کیا ہندوستانی فوج شیرہ-5 سمیت تمام مقررہ گشتی مقامات تک رسائی حاصل کر پا رہی ہے؟ کیا مقامی لوگوں کے روایتی چراگاہوں اور شکار کے علاقوں تک جانے پر عائد پابندیاں ختم ہو گئی ہیں؟ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوجی رازداری کو متاثر کیے بغیر سرحدی صورت حال کی حقیقت واضح کی جائے۔؎پون کھیڑا نے مشرقی لداخ میں مئی 2020 سے پہلے کی صورت حال مکمل طور پر بحال ہونے پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا دیپسانگ، ڈیمچوک، گوگرا اور ہاٹ اسپرنگس سمیت تمام علاقوں میں ہندوستانی فوج پہلے کی طرح گشت کر سکتی ہے؟ کیا سرحدی علاقوں میں مقامی چرواہوں کے روایتی حقوق بھی بحال ہو گئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ فوجی انخلا اور کشیدگی میں کمی کے اقدامات کے نتیجے میں ہندوستان کو اپنے تمام سابقہ گشتی حقوق واپس مل گئے ہیں یا نہیں۔؎کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقاتوں، خصوصی نمائندوں کی بات چیت اور سرحدی مذاکرات کے نتائج پر بھی سوال اٹھائے۔ کھیڑا کے مطابق، متعدد اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور مذاکرات کے باوجود سرحدی سلامتی سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔انہوں نے حکومت سے پوچھا کہ چین سے کون سی ٹھوس ضمانتیں حاصل ہوئی ہیں اور مستقبل میں سرحدی تصادم روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ کھیڑا نے چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے علاقوں کے نام تبدیل کرنے، ہندوستانی شہریوں کو اسٹیپلڈ ویزا جاری کرنے اور برہم پتر پر مجوزہ بڑے آبی منصوبے سے متعلق خدشات بھی اٹھائے۔؎اقتصادی محاذ پر کانگریس نے دعویٰ کیا کہ چین سے ہندوستان کی درآمدات مالی سال 2020-21 کے 65.21 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 131.63 ارب ڈالر ہو گئیں، جبکہ تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ پارٹی نے چین سے منسلک سرمایہ کاری کے قواعد میں نرمی اور اہل کمپنیوں کو پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو (پی ایل آئی) اسکیم کے فوائد دینے کے امکان پر بھی سوال اٹھائے۔کانگریس نے مطالبہ کیا کہ حکومت پارلیمنٹ میں تفصیلی بیان دے، تمام سیاسی جماعتوں کو خفیہ بریفنگ فراہم کرے اور سرحدی علاقوں میں گشت کے حقوق کی بحالی، فوج کی جدید کاری اور چین پر اقتصادی انحصار کم کرنے کے لیے وقت بند منصوبہ پیش کرے۔ پون کھیڑا نے کہا کہ ہندوستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سرحدی صورت حال کے بارے میں ملک کو واضح طور پر آگاہ کرے۔