وزن کم کرنے والی ادویات کا انوکھا اثر، موچیوں اور درزیوں کی چاندی ہوگئی

Wait 5 sec.

نیویارک : وزن کم کرنے والی ادویات اوزمپک اور مونجارو کے استعمال میں اضافے نے امریکیوں کی خریداری کی عادات تبدیل کرنا شروع کردی ہیں۔امریکا میں ان ادویات سے وزن کم کرنے والے افراد نئے کپڑے خریدنے کے بجائے پرانے ملبوسات، بیلٹس، جوتوں اور بیگ کی پٹیاں اپنے نئے جسمانی خدو خال کے مطابق تبدیل کرانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا میں وزن کم کرنے کے لیے ’جی ایل پی ون‘ ادویات استعمال کرنے والے صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد سے موچیوں اور درزیوں کے کاروبار کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے۔امریکی ادارے گیلپ کے مطابق تقریباً 11 فیصد امریکی بالغ افراد وزن کم کرنے کے لیے جی ایل پی ون ادویات استعمال کر رہے ہیں، جس کے باعث لاکھوں افراد کو اپنے لباس اور دیگر ذاتی استعمال کی اشیا نئے جسمانی حجم کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت پیش آرہی ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکا میں جوتوں اور ہینڈ بیگز کی مرمت کرنے والے ادارے کوبلرز ڈائریکٹ نے بیلٹ چھوٹا کرنے کے کاروبار میں اضافہ ریکارڈ کیا ہے جہاں ہر ہفتے 500 تک بیلٹس چھوٹے کیے جارہے ہیں۔ مذکورہ کمپنی کی امریکا میں 25 دکانیں ہیں جبکہ تقریباً 100 کاریگر جلد آسٹن میں قائم نئے گودام سے کام کریں گے۔کوبلرز ڈائریکٹ کے سربراہ اسٹیفن کیلی کے مطابق وزن کم ہونے کے باعث صرف بیلٹس ہی نہیں بلکہ جوتوں اور بیگز کی پٹیوں میں بھی تبدیلی کی طلب بڑھ رہی ہے۔ٹیلی ہیلتھ پلیٹ فارم ٹریمی کے 700 سے زائد امریکی جی ایل پی ون صارفین کے سروے کے مطابق تقریباً 80 فیصد افراد ایسے کپڑے پہن رہے ہیں جو اب انہیں ٹھیک طرح فٹ نہیں آتے۔وزن کم کرنے کے بعد دوبارہ وزن بڑھنے کا خدشہ بھی صارفین کو مکمل طور پر نئی وارڈروب خریدنے سے روک رہا ہے۔