اتر پردیش سے لے کر بہار، مہاراشٹر اور کرناٹک کی قانون ساز کونسلوں کی مجموعی طور پر 28 نشستوں پر آج ووٹنگ شروع ہو چکی ہے، جن میں سب سے زیادہ بحث اتر پردیش ایم ایل سی انتخابات کو لے کر ہے۔ اتر پردیش قانون ساز کونسل کے گریجویٹ اور اساتذہ حلقوں کی 11 نشستوں پر آج ووٹنگ ہو رہی ہے۔ صبح 8 بجے سے ووٹ ڈالنے کا عمل شروع ہوا ہے جو شام 4 بجے تک چلے گا۔اتر پردیش کے چیف الیکٹورل افسر نویدیپ رنوا نے کہا ہے کہ ان انتخابات میں ووٹر لسٹ میں نام یا دیگر تفصیلات میں معمولی کتابتی یا طباعتی غلطیوں کی بنیاد پر کسی بھی اہل ووٹر کو ووٹ ڈالنے سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں تمام متعلقہ ضلع الیکشن افسران کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، تاکہ کسی بھی اہل ووٹر کو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے میں پریشانی نہ ہو۔ریاست کی جن 11 نشستوں پر انتخابات ہونے ہیں، ان میں گریجویٹ حلقوں کی 5 اور اساتذہ حلقوں کی 6 نشستیں شامل ہیں۔ گریجویٹ نشستوں میں آگرہ حلقہ گریجویٹ، میرٹھ حلقہ گریجویٹ، الٰہ آباد-جھانسی حلقہ گریجویٹ، لکھنؤ حلقہ گریجویٹ اور وارانسی حلقہ گریجویٹ کی نشستیں شامل ہیں، جبکہ اساتذہ حلقوں میں لکھنؤ حلقہ اساتذہ، کاشی حلقہ اساتذہ، آگرہ حلقہ اساتذہ، گورکھپور-فیض آباد حلقہ اساتذہ، بریلی-مرادآباد حلقہ اساتذہ اور میرٹھ حلقہ اساتذہ کی نشستیں شامل ہیں۔قانون ساز کونسل کے انتخابات میں ووٹنگ کے پیش نظر آج اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں شراب کی دکانیں بند رہیں گی۔ ضلع انتظامیہ نے جمعہ کو ’خشک دن‘ قرار دیتے ہوئے شراب اور نشہ آور اشیا کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ حکم فوج اور نیم فوجی دستوں کی کینٹینوں، نشہ آور اشیا فروخت کرنے والے دیگر اداروں اور متعلقہ لائسنس یافتگان پر بھی لاگو ہوگا۔ اس کے علاوہ بریلی-مرادآباد اساتذہ حلقہ انتخابات 2026 میں ووٹنگ کے باعث مرادآباد کے اسکولوں میں آج تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ ضلع کے نرسری سے لے کر بارہویں جماعت تک کے تمام اسکول بند رہیں گے۔ تعلیمی اداروں میں اس حکم پر صد فیصد عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ان انتخابات کو بی جے پی اور سماج وادی پارٹی (ایس پی)، دونوں ہی پارٹیوں کے لیے 2027 کے اسمبلی انتخابات کا سیمی فائنل سمجھا جا رہا ہے۔ ایسے میں دونوں پارٹیوں کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ووٹنگ سے قبل ایس پی نے اپنے حامی ووٹروں کو دھمکانے اور انہیں ووٹ ڈالنے سے روکنے کی سازش رچنے کا الزام لگایا ہے۔ پارٹی نے چیف الیکٹورل افسر کو میمورنڈم دے کر اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اور ووٹنگ آزادانہ، منصفانہ اور خوف سے پاک ماحول میں کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ میمورنڈم میں الزام لگایا گیا ہے کہ کانپور نگر، کانپور دیہات اور اناؤ سمیت 72 اضلاع میں ووٹنگ کے دوران ایس پی حامی ووٹروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ریاستی حکومت کے وزرا اور بی جے پی عہدیداروں کے اشارے پر پولیس اہلکار ایس پی حامیوں کی شناخت کر رہے ہیں اور انہیں ووٹنگ کے دن گھر سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔ پارٹی کا یہ بھی الزام ہے کہ حامیوں کو فرضی مقدمات میں پھنسانے اور گرفتار کرکے جیل بھیجنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔آگرہ ڈویژن گریجویٹ حلقے کی ووٹر لسٹ میں بڑی تعداد میں دوہرے نام درج ہونے اور ناموں میں غلطیوں کا الزام لگاتے ہوئے سماجوادی پارٹی نے کہا ہے کہ اس سے ووٹروں کو پریشانی ہو سکتی ہے۔ پارٹی نے انتخابی افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی ووٹر کو ووٹ ڈالنے سے نہ روکا جائے۔ اس کے ساتھ ہی ایس پی نے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹنگ ختم ہونے کے بعد ہر بوتھ پر ڈالے گئے ووٹوں کی تفصیلات پر مشتمل فارم 17 سی پولنگ ایجنٹوں کو لازمی طور پر فراہم کیا جائے۔ دوسری جانب سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے جمعرات کو بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کرکے اور افسران نیز اسکولوں اور کالجوں کے انتظامی اداروں پر دباؤ ڈال کر اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات میں اساتذہ اور گریجویٹ حلقوں میں کامیابی حاصل کرنے کی سازش کر رہی ہے۔اتر پردیش کے علاوہ بہار میں بھی قانون ساز کونسل کی 8 نشستوں کے لیے آج ووٹنگ ہوگی۔ ووٹنگ صبح 8 بجے شروع ہو چکی ہے اور شام 4 بجے تک جاری رہے گی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 27 اکتوبر کو کی جائے گی۔ گریجویٹ حلقوں کی چار اور اساتذہ حلقوں کی چار نشستوں کے لیے ہونے والے ان انتخابات میں 5.33 لاکھ سے زیادہ ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ انتخابی میدان میں مجموعی طور پر 150 امیدوار ہیں۔ جن نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں، ان میں پٹنہ گریجویٹ، دربھنگہ گریجویٹ، تریہت گریجویٹ، کوسی گریجویٹ، پٹنہ اساتذہ، دربھنگہ اساتذہ، تریہت اساتذہ اور سارن اساتذہ حلقے شامل ہیں۔ انتخابات میں این ڈی اے کی اتحادی جماعتیں بی جے پی اور جے ڈی یو چار چار نشستوں پر اپنے امیدواروں کے ساتھ میدان میں ہیں۔ ان انتخابات میں سب سے زیادہ چرچا پٹنہ گریجویٹ نشست کا ہے، جہاں جے ڈی یو کے باہوبلی رکن اسمبلی اننت سنگھ نے جن سوراج کے امیدوار انوج سنگھ کی حمایت میں محاذ سنبھال کر نہ صرف جے ڈی یو کے امیدوار نیرج سنگھ بلکہ اپنی ہی پارٹی کو چیلنج دے دیا ہے۔اتر پردیش اور بہار کے علاوہ مہاراشٹر میں بھی قانون ساز کونسل کی 5 نشستوں کے لیے آج ووٹنگ ہو رہی ہے۔ ان نشستوں پر مجموعی طور پر 182 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں، جبکہ کل 10,68,072 ووٹر 2,419 پولنگ مراکز پر اپنے ووٹ ڈالیں گے۔ ان انتخابات میں حکمراں مہایوتی اور اپوزیشن مہاوکاس اگھاڑی اپنی طاقت آزمانے کے لیے تیار ہیں۔ بی جے پی نے ناگپور گریجویٹ، پونے گریجویٹ اور پونے اساتذہ کی نشستوں پر اپنے امیدوار اتارے ہیں، جبکہ این سی پی چھترپتی سمبھاجی نگر گریجویٹ نشست سے اور شیوسینا امراوتی اساتذہ حلقے سے انتخاب لڑ رہی ہے۔کرناٹک میں بھی قانون ساز کونسل کی 4 نشستوں کے لیے آج ووٹنگ ہو رہی ہے۔ یہ انتخابات گریجویٹ حلقوں کی 2 اور اساتذہ حلقوں کی 2 نشستوں کے لیے ہو رہے ہیں۔ ان 4 نشستوں میں سے 3 پہلے بی جے پی کے پاس تھیں، جبکہ ایک نشست کانگریس کے پاس تھی۔ ان انتخابات میں کانگریس اور این ڈی اے کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔