سپریم کورٹ میں 26 اکتوبر کو الیکشن کمیشن کی کارکردگی اور اس کے فیصلہ لینے کے طریقہ کو چیلنج دینے والی ایک عرضی کو جلد فہرست بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ عرضی ایک موجودہ رکن پارلیمنٹ کے ذریعہ داخل کی گئی ہے۔ اس بارے میں سینئر ایڈووکیٹ مینکا گروسوامی نے چیف جسٹس سوریہ کانت سے گزارش کی کہ اسے منگل کو قبل سے فہرست بند متعلقہ معاملوں کے ساتھ سنیں۔مینکا گروسوامی نے عدالت کو بتایا کہ یہ عرضی 17 تاریخ کو داخل کی گئی تھی اور اس میں جو بھی خامیاں تھیں، انھیں دور کر دیا گیا ہے۔ درمیان میں عدالت کی چھٹیاں ہونے کے سبب معاملے کی سماعت نہیں ہو سکی۔ انھوں نے گزارش کی کہ عرضی کو منگل کے روز فہرست بند کر دیگر متعلقہ معاملوں کے ساتھ سنا جائے۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے سوال کیا کہ کیا اس معاملے کو فہرست میں 47ویں نمبر پر درج معاملے کے ساتھ منگل کو سنا جانا ہے؟ جواب میں گروسوامی نے اتفاق ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ عرضی میں الیکشن کمیشن کی کارکردگی، اس کے فیصلہ لینے کے طریقہ اور قانون کے تحت مقررہ التزامات پر عمل نہیں کیے جانے کے نتیجوں سے جڑے ایشوز اٹھائے گئے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ عرضی ایک موجودہ رکن پارلیمنٹ کی طرف سے داخل کی گئی ہے۔دلیلیں سننے کے بعد چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ عرضی کو متعلقہ معاملوں کے ساتھ منسلک کر دیا جائے گا۔ یعنی اب اس عرضی پر بھی متعلقہ معاملوں کے ساتھ سماعت ہوگی۔ قابل ذکر ہے کہ دہلی ایس آئی آر معاملہ پر سپریم کورٹ 28 اکتوبر کو سماعت کرے گا۔ عرضی دہندہ کے وکیل نے چیف جسٹس کی بنچ کے سامنے آج یہ معاملہ رکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایس آئی آر کی آخری تاریخ 30 اکتوبر ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ برائے کرم ہمارے فیصلوں کا انتظار کریں۔ یہ معاملہ 28 تاریخ کو آ رہا ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ ہمارا پورا اسٹاف آپ کی خدمت میں حاضر ہے؟ جسٹس باگچی نے کہا کہ آج ہمارے سامنے مہاراشٹر ایس آئی آر کا بھی ایسا ہی ایک معاملہ ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ انتظار کریں اور دیکھیں کہ اس میں کیا ہوتا ہے۔