یورپ کی اہم سرکاری ویب سائٹس بند

Wait 5 sec.

ایمسٹرڈیم : یورپ کی اہم سرکاری ویب سائٹس کو ایک انتہائی سنگین سکیورٹی خطرے (سافٹ ویئر خامیوں) کے باعث عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پی ایچ پی پروگرامنگ لینگوئج میں سامنے آنے والی انتہائی نوعیت کی سافٹ ویئر خامیوں کے باعث یورپ سمیت دنیا بھر میں سرکاری اور نجی ویب سائٹیں عارضی طور پر بند ہوگئی ہیں۔رپوٹ کے مطابق سائبر سکیورٹی اداروں نے تمام صارفین کو فوری طور پر سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنے یا حفاظتی پیچ دستیاب ہونے تک ویب سائٹس آف لائن رکھنے کی ہدایت کی ہے۔نیدرلینڈز اور فن لینڈ کے سرکاری اداروں سمیت متعدد تنظیموں نے ممکنہ سائبر حملوں سے بچنے کے لیے اپنی ویب سائٹس بند کردیں۔ نیدرلینڈز کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر نے بھی اپنی ویب سائٹ احتیاطی طور پر آف لائن کردی۔پی ایچ پی کے ڈولپرز نے منگل کو ان خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے صارفین کو ہدایت کی تھی کہ فکس دستیاب ہوتے ہی اپنی ویب سائٹس کو اپ ڈیٹ کیا جائے۔ بدھ کو تقریباً 1345 جی ایم ٹی پر ڈویلپرز نے تصدیق کی کہ خامیوں کو دور کرنے والا نیا ورژن جاری کردیا گیا ہے۔تاہم اس دوران ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ ہیکرز ان خامیوں کو استعمال کرکے ویب سائٹس میں غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جس کے باعث دنیا بھر میں ویب سائٹ آپریٹرز نے فوری حفاظتی اقدامات شروع کردیے۔لاکھوں ویب سائٹس متاثر ہونے کا خدشہسائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق خطرے کی شدت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ پی ایچ پی دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی پروگرامنگ لینگویج ہے۔ ویب ٹیکنالوجی ٹریکر ڈبلیو تھری ٹیکس کے مطابق جن ویب سائٹس کی پروگرامنگ لینگویج معلوم ہے، ان میں تقریباً 75 فیصد پی ایچ پی استعمال کرتی ہیں۔پی ایچ پی معروف پلیٹ فارمز ورڈپریس، ڈروپل، جوملہ اور میگینٹو سمیت متعدد ویب سائٹس اور آن لائن سروسز کے بنیادی نظام میں استعمال ہوتی ہے۔ صرف ورڈپریس ہی دنیا کی تقریباً 43 فیصد ویب سائٹس کو طاقت فراہم کرتا ہے، جن میں عام بلاگز اور کاروباری ویب سائٹس سے لے کر سرکاری پورٹلز، آن لائن اسٹورز اور نیوز ویب سائٹس تک شامل ہیں۔سائبر سکیورٹی کمپنی ہنٹرز نے خبردار کیا ہے کہ پی ایچ پی خاموشی سے انٹرنیٹ کے ایک بڑے حصے کو چلا رہی ہے اور بہت سے سافٹ ویئر ایسے ہیں جن کے صارفین کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے سسٹم کے پسِ پردہ پی ایچ پی استعمال ہورہی ہے۔ہیکرز کے حملوں کی اطلاعاتکلاؤڈ اور ویب سکیورٹی کمپنی کلاؤڈفلیئر کے چیف ٹیکنالوجی افسر ڈین کنیخت کے مطابق سکیورٹی خامیوں سے فائدہ اٹھانے کی ابتدائی کوششیں سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں، جس کے بعد کمپنی نے حفاظتی اقدامات کے طور پر اپنے فائر وال قوانین میں تبدیلیاں کی ہیں۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عارضی نوعیت کے ہیں اور اصل حل پی ایچ پی کا نیا سکیورٹی ورژن انسٹال کرنا ہے۔بے قابو اے آئی ایجنٹس نے امریکی سرکاری ویب سائٹس پر حملے شروع کر دیے