ملک بھر میں نوجوان طبقہ مختلف مواقع پر ایس آئی آر اور بے روزگاری کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرہ کر ہی رہا ہے، کچھ ریاستوں میں الگ الگ مطالبات کے لیے بھی مظاہرے جاری ہیں۔ اروناچل پردیش میں مجوزہ ’ایس یو ایم پی‘ منصوبہ کے خلاف جین-زی طبقہ احتجاج کرتا دکھائی دے رہا ہے، جس کے خلاف گزشتہ روز پولیس نے آنسو گیس کا گولہ داغ کر نوجوانوں کو مشتعل کر دیا۔ اس بارے میں کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں جین-زی طبقہ سڑکوں پر اتر رہا ہے، اور اس خراب صورت حال کے لیے مودی حکومت ذمہ دار ہے۔Gen Z across the country is taking to the streets.In Delhi, it is for education. In Arunachal Pradesh, it is to protect the forests, rivers and ecosystems that the Adi people have depended on for centuries.From Delhi to Arunachal, the response has been the same: repression.… pic.twitter.com/MUmvRwYsm5— Pawan Khera ಪವನ್ ಖೇರಾ (@Pawankhera) October 24, 2026پون کھیڑا نے اس بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ملک بھر میں جین-زی سڑکوں پر ہے۔ دہلی میں اس کی وجہ تعلیم ہے، جبکہ اروناچل پردیش میں قبائلی طبقہ کے لوگ ان جنگلات، ندیوں اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کو توجہ میں رکھتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں جن پر وہ صدیوں سے انحصار کرتے ہیں۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’دہلی سے اروناچل پردیش تک مودی حکومت نے ایک ہی طریقہ اختیار کیا ہے، اور وہ ہے ’جبر‘ کا۔ دہلی میں طلبا کے احتجاجی مظاہرہ پر ہونے والی کارروائی کی یاد تازہ کرتے ہوئے اروناچل پردیش میں بھی پُرامن مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے داغے گئے۔‘‘قابل ذکر ہے کہ آنسو گیس کے یہ گولے جمعہ کی شام سیکورٹی اہلکاروں کے ذریعہ داغے گئے تھے، جس نے جین-زی طبقہ کو مشتعل کر دیا۔ اس کے بعد پولیس پر پتھراؤ کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ پون کھیڑا نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں پولیس ایکشن کے وقت کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں ایک خاتون رپورٹ پریشان حال ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ایک رپورٹر کی حیثیت سے نہیں، بلکہ جین-زی اور شہری کی حیثیت سے وہ ویڈیو بنا رہی ہے اور آرمڈ فورسز نے پُرامن مظاہرین پر کارروائی کر مشکل حالات پیدا کر دیے ہیں۔ ویڈیو بنانے والی خاتون یہ بھی بتاتی ہے کہ آنسو گیس کی وجہ سے لوگوں کو دقتیں ہو رہی ہیں۔ انھیں آنکھوں میں جلن اور سانس لینے میں تکلیف کا بھی سامنا ہے۔ وہ سوال کرتی ہیں کہ اگر اس آنسو گیس کی وجہ سے کوئی نقصان ہو جاتا ہے تو آخر اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟#WATCH | Pasighat, Arunachal Pradesh: Protests against a proposed large-scale dam on the Siang River in Arunachal Pradesh turned violent. Several incidents of arson and vandalism have been reported in Pasighat, located in the East Siang district. pic.twitter.com/pFZpOv5KV4— ANI (@ANI) October 24, 2026بہرحال، اس پوسٹ میں پون کھیڑا نے اروناچل پردیش میں پیدا حالات کے پیچھے موجود وجہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ قبائلی لوگ ایک مذہبی اور ثقافتی اقلیت ہیں، جن کے عقائد اور روایات دریائے سیانگ اور اس سے متصل جنگلات سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ وہ ’اَپر سیانگ‘ خطہ میں مجوزہ 11 ہزار میگاواٹ کے باندھ (ڈیم) کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان قدرتی وسائل کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کانگریس لیڈر نے اس معاملہ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی بے حسی اور مرکزی وزیر کرن رجیجو کی خاموشی پر افسوس بھی ظاہر کیا۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ’’چونکہ امت شاہ دہلی پولیس کو شکریہ ادا کرنے کے لیے فون کرنے میں مصروف ہیں، اس لیے کیا اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو برائے مہربانی یہ وضاحت کریں گے کہ وہ اپنی آبائی ریاست میں قبائلی لوگوں کے اقلیتی حقوق کے تحفظ کے لیے کیا کر رہے ہیں؟‘‘