’ووٹ چور اور پیپر چور حکومت کو جانا ہی ہوگا‘، نظامِ امتحان میں بے ضابطگی معاملہ پر جئے رام رمیش کا تلخ تبصرہ

Wait 5 sec.

ہندوستان میں پیپر لیک کے بڑھتے معاملوں پر کانگریس نے ایک بار پھر آواز اٹھائی ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے انگریزی روزنامہ ’ہندوستان ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ قصورواروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی، جس سے پتہ چلتا ہے کہ حکمراں طبقہ اس معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہے۔Despite 5 months passing since huge irregularities in the CBSE’s on-screen marking (OSM) system rocked the nation, the culprit vendor COEMPT has not been sanctioned or faced penalties.On Jun 1, 2026 CBSE said it would penalise COEMPT - but no action has been taken till now.… https://t.co/3C71zyvTuv pic.twitter.com/QC0VOqYqzN— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) October 21, 2026جئے رام رمیش نے ’ہندوستان ٹائمز‘ کی رپورٹ کا اسکرین شاٹ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) نظام میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے سامنے آنے اور ملک بھر میں ہنگامہ برپا ہونے کے 5 ماہ گزر چکے ہیں، اس کے باوجود قصوروار وینڈر کمپنی ’کوئمپٹ‘ (COEMPT) کے خلاف نہ تو کوئی پابندی عائد کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی جرمانہ لگایا گیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یکم جون 2026 کو سی بی ایس ای نے کہا تھا کہ وہ کوئمپٹ پر جرمانہ عائد کرے گا، لیکن اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وزارت تعلیم اور سی بی ایس ای کے انہی لوگوں کو وینڈر کمپنی پر جرمانہ عائد کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جنھوں نے مشتبہ طریقۂ کار کے ذریعہ اسے یہ ٹھیکہ دیا تھا۔‘‘کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اس معاملہ میں حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج سی بی ایس ای میں گھوٹالوں کو بے نقاب کرنے میں پیش پیش رہنے والے ایک مشہور روزنامہ نے رپورٹ کیا ہے کہ کوئمپٹ کے خلاف نہ تو کوئی پابندی کا حکم جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’اس سے قبل کی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ او ایس ایم ٹنڈر میں ترمیم کر کے ان وینڈروں کو بلیک لسٹ کرنے کی شرط ہٹا دی گئی تھی جو کام انجام دینے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہ ترمیم ’کوئمپٹ‘ کو ٹھیکہ دیے جانے سے محض چند ماہ پہلے کی گئی تھی۔ اس ٹھیکے کی کل مالیت 38 کروڑ روپے سے زیادہ تھی۔‘‘ایک بار پھر ثابت ہو گیا، ووٹ چوری کا کھیل دہلی سے ہی ہو رہا ہے: کانگریساس پورے معاملہ پر روشنی ڈالنے کے بعد کانگریس جنرل سکریٹری نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’اس سے ظاہر ہوتا ہے طلبا کی بڑے پیمانے پر تحریک کے باوجود وزارت تعلیم میں کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’نئے وزیر بھی ان وینڈر کمپنیوں کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں، جو انھیں وراثت میں ملی ہیں۔‘‘ آخر میں انھوں نے تلخ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ووٹ چور، پیپر چور حکومت کو جانا ہی ہوگا۔‘‘