کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رویندر وٹھل راؤ گھوگے نے منگل (20 اکتوبر) کو مغربی بنگال حکومت کو ہدایت دی کہ وہ 17 اکتوبر کی رات چورباگان سروجنِن کمیونٹی درگا پوجا کمیٹی کے پنڈال میں بھگدڑ کے سانحے کی جانچ کے لیے ایک عدالتی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ریاستی حکومت ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دے۔ واضح رہے کہ اس بھگدڑ میں مجموعی طور پر 19 افراد کی موت ہوگئی تھی۔Calcutta HC says inquiry commission headed by retired judge be appointed into Chorbagan stampede✍️ PTI pic.twitter.com/z3AzSEnFdj— The Hindu-Kolkata (@THKolkata) October 20, 2026اس سے قبل مغربی بنگال کے چیف سکریٹری منوج کمار اگروال نے چیف جسٹس گھوگے کے دفتر کو خط بھیج کر ان سے معاملے کی جانچ کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ کے کسی بھی موجودہ جج کو نامزد کرنے کی درخواست کی تھی۔ حالانکہ چیف جسٹس گھوگے کے دفتر نے ریاستی حکومت کو مطلع کیا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ حکم کے مطابق کسی بھی کمیشن میں موجودہ جج کی تقرری ممکن نہیں ہے۔ اس لیے ریاست کو معاملے کی عدالتی جانچ کے لیے اپنی پسند کے کسی ریٹائرڈ جج کا انتخاب کرنا ہوگا۔کولکاتا دُرگا پوجا پنڈال واقعہ: کسی کی پسلیاں ٹوٹیں، کسی کے پھیپھڑے میں ہوا سوراخ، مہلوکین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آئی سامنےمنگل کو ریاستی وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے سانحے میں ہلاک ہونے والے کچھ لوگوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور انہیں معاوضے کے چیک سونپے۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ عدالتی تحقیقاتی کمیشن کے ذریعے معاملے کی جنگی سطح پر تحقیقات مکمل کرنے اور اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری بدھ (21 اکتوبر) کو سانحے میں ہلاک ہونے والے دیگر لوگوں کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کریں گے۔کولکاتہ دُرگا پوجا پنڈال بھگدڑ: پولیس نے درج کیا مقدمہ، منتظمین سمیت 7 افراد گرفتارقابل ذکر ہے کہ 17 اکتوبر کی رات پیش آئے حادثے کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ نے عدالتی تحقیقاتی کمیشن کے ذریعے معاملے کی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا تھا کہ تحقیقات میں غیر جانبداری برقرار رکھنے کے لیے کولکاتا پولیس، ریاستی فائر بریگیڈ محکمہ اور کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے نمائندوں کو عدالتی جانچ کمیٹی میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ اگر کوئی بھی لاپرواہی کا قصوروار پایا گیا، خواہ وہ پوجا کمیٹی کا منتظم ہو یا پولیس اہلکار، اسے بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو 25 لاکھ روپے کا مالی معاوضہ اور گروپ ڈی کے عہدے پر ملازمت دینے کا بھی اعلان کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال حکومت زخمیوں کے علاج کا خرچ برداشت کرے گی اور انہیں 5 لاکھ روپے کی مالی امداد بھی فراہم کرے گی۔