تل ابیب: اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر کے درمیان ایران پر فوری حملے کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے فوجی سربراہ سے انتخابات سے قبل ایران پر حملہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور وہ منگل کو حملہ کرنا چاہتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایال زمیر نے ایران کے خلاف کارروائی کے حکم پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی فوجی قیادت کو خدشہ ہے کہ نیتن یاہو انتخابات سے قبل اس حملے کے ذریعے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوجی سربراہ نے ایران پر حملے کی باضابطہ منظوری کے لیے دستخط شدہ دستاویزات طلب کر لی ہیں۔ ایال زمیر نے ایران پر نئے حملے کے معاملے پر مزید بحث کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔انتخابات میں شکست کا خوف، نیتن یاہو کی ٹرمپ سے مخصوص الفاظ میں حمایتی بیان جاری کرنے کی درخواستاسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ دی ٹائمز آف اسرائیل اور یروشلم پوسٹ نے بھی شائع کی، اس کے مطابق نیتن یاہو کی سیاسی قیادت نے فوج کو ایران سے متعلق ایک فوجی کارروائی کی ہدایت دی تھی، تاہم کارروائی کی نوعیت اور ممکنہ ہدف ظاہر نہیں کیے گئے۔ایال زمیر نے اس حکم پر فوری عمل کرنے کی بہ جائے مزید تفصیلی مشاورت اور کارروائی کی قانونی منظوری کے لیے دستخط شدہ دستاویزات طلب کیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس کارروائی سے ایران کے ساتھ تیزی سے فوجی تصادم شروع ہونے کا خدشہ تھا۔رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے سیکیورٹی ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا کہ سیاسی قیادت ایران کے معاملے کو انتخابات سے پہلے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اسرائیل میں انتخابات منگل، 27 اکتوبر کو ہونا ہیں۔ اس سے قبل زمیر نے ایک نجی اجلاس میں کہا تھا کہ انھیں انتخابات سے پہلے ایران پر حملے کی کوئی عملی ضرورت دکھائی نہیں دیتی۔نیتن یاہو نے چینل 14 سے گفتگو میں فوجی سربراہ کے ساتھ اختلاف یا تصادم کی خبر کو مسترد کیا اور کہا کہ ان کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ بعض لوگ اس حقیقت سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں کہ اسرائیلی سیکیورٹی حکام کے مطابق ایران انتخابات میں مداخلت کی کوشش کر سکتا ہے۔