پنجاب میں گلزار سنگھ کی خودکشی کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ عآپ حکومت میں وزیر ہرپال سنگھ چیما پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انھوں نے نشہ کی مخالفت کرنے والے گلزار سنگھ کو اس قدر ہراساں کیا کہ انھیں خودکشی جیسا سخت قدم اٹھانا پڑا۔ اس خودکشی واقعہ کے بعد پنجاب میں اپوزیشن پارٹیاں لگاتار عآپ حکومت اور پارٹی کنوینر اروند کیجریوال کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ کانگریس بھی حملہ آور ہے اور آج گلزار سنگھ کے اہل خانہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کر عآپ حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔AAP सरकार के मंत्री हरपाल सिंह चीमा ने नशे का विरोध करने पर गुलजार सिंह जी को इतना प्रताड़ित किया कि उन्होंने आत्महत्या कर ली।अब गुलजार सिंह जी के परिवार का कहना है कि AAP सरकार ने अंतिम सरकार भी जबरदस्ती करवाया।ऐसा इसलिए क्योंकि AAP सरकार नशे के कारोबार में लगी है। 'नशे के… pic.twitter.com/SriJtCZcAz— Congress (@INCIndia) September 10, 2026کانگریس نے ویڈیو شیئر کرنے کے ساتھ سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’عآپ حکومت کے وزیر ہرپال سنگھ چیما نے نشہ کی مخالفت کرنے پر گلزار سنگھ کو اتنا پریشان کیا کہ انھوں نے خود کشی کر لی۔ اب گلزار سنگھ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عآپ حکومت نے آخری رسومات بھی زبردستی ادا کروائی۔‘‘ کانگریس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ عآپ حکومت نشہ کے کاروبار میں مصروف ہے۔ نشہ کے ریکٹ کا پیسہ وزیر اعلیٰ سے لے کر کیجریوال تک پہنچ رہا ہے۔‘‘’سرکاری ناکامی پر سوال کرو گے تو جواب دھمکی اور ٹارچر سے ملے گا‘، گلزار سنگھ کی خودکشی پر راہل نے عآپ کو بنایا ہدف تنقیدکانگریس نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کیجریوال پر ہرپال سنگھ چیما کی دفاع کا الزام بھی عائد کیا۔ پارٹی نے لکھا ہے کہ ’’کیجریوال اپنے نشہ کے سوداگر وزیر کو بچانے میں مصروف ہیں۔ عآپ حکومت کے وزیر و لیڈران اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے پنجاب کے نوجوانوں کو نشہ میں جھونک رہے ہیں، اور اس ک ے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔‘‘ عآپ کے قومی کنوینر کیجریوال کو مخاطب کرتے ہوئے کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’کیجریوال جی، اگر آنکھوں میں ذرا سی بھی شرم بچی ہو تو اپنی حکومت کے وزیر پر کارروائی کیجیے اور اپنا ’نشے کا نیکسس‘ بند کیجیے۔‘‘ سوشل میڈیا پوسٹ کے آخر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’آپ (کیجریوال) ایسا کریں گے نہیں، کیونکہ پھر پیسہ آنا بند ہو جائے گا۔‘‘