620 کروڑ روپے چندے کا تنازعہ: انامیکا پاسوان نے خود کو پارٹی سے الگ بتایا، ’مجھے بلاوجہ بدنام کیا جا رہا ہے‘

Wait 5 sec.

عام جن مت پارٹی کو مالی سال 24-2023 میں مبینہ طور پر 620 کروڑ روپے کا چندہ ملنے کے تنازعہ کے درمیان بہار بی جے پی کی ریاستی نائب صدر انامیکا پاسوان نے وضاحت پیش کی ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق انامیکا پاسوان نے خود کو پورے معاملے سے الگ بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں بلاوجہ بدنام کیا جا رہا ہے۔ انامیکا کے مطابق انہوں نے 2022 میں پارٹی چھوڑ دی تھی اور پارٹی کو ختم کرنے کے لیے وکیل کو دستاویزات پر دستخط کر کے دیے تھے۔“Resigned from Aam Janmat Party in 2022, have nothing to do with donation fraud.”- BJP leader Anamika Paswan rejects involvement in alleged financial fraud pic.twitter.com/LHV1aCHXIf— News Arena India (@NewsArenaIndia) September 6, 2026انامیکا کے مطابق انہوں نے 2020 میں عام جن مت پارٹی بنائی تھی اور خود اس کی قومی صدر تھیں۔ تاہم 2022 میں انہوں نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب پارٹی بہار میں کام کر رہی تھی، اس وقت انہوں نے بینک اکاؤنٹ تک نہیں کھولا تھا۔ اسی دوران انتخابات اور پھر کووڈ کا دور آ گیا۔ انامیکا نے ایک ٹرانسفر پیپر دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ دستاویز 26 جولائی 2022 کو گورو مشرا سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاغذ میں انہیں ’سابق صدر‘ بتایا گیا ہے، نہ کہ صدر۔ انامیکا کے مطابق انہوں نے وکیل سے پارٹی کو تحلیل کرنے کے لیے کہا تھا، نہ کہ اسے کسی اور کو منتقل کرنے کے لیے۔کئی ’کاغذی‘ سیاسی پارٹیاں جنہیں ملتے ہیں کروڑوں روپے کے چندے!بی جے پی لیڈر نے الزام عائد کیا کہ پارٹی سے متعلق دستاویزات کی کارروائی کے دوران انہوں نے سادہ کاغذ پر دستخط کر کے وکلاء کو دیے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بعد میں انہی دستخطوں کا بار بار استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں سی اے اور وکلاء کے ذریعے کاغذی کارروائی میں کیا کچھ ہوتا ہے، اس کی انہیں معلومات نہیں تھی۔ انامیکا نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کے عہدیدار دلت اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔انامیکا پاسوان نے مزید کہا کہ انتخابات، پارٹی کی ویب سائٹ اور انکم ٹیکس سے متعلق موجودہ معاملات میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ انہوں نے چندے سے کسی بھی طرح کے تعلق سے انکار کیا اور کہا کہ انہیں بدنام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے معاملے میں قانونی کارروائی کرنے کی بات کہی ہے۔ ساتھ ہی حکومت سے پورے معاملے کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ 4 ستمبر کو ’بی بی سی ہندی‘ پر ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں 6 ایسی آر یو پی پی (رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی پارٹیوں) کا ذکر ہے جنہیں  2024کے عام انتخاب سے قبل سب سے زیادہ چندہ ملا تھا۔ ان میں شامل ’عام جن مت پارٹی‘ کو سب سے زیادہ 620.24 کروڑ روپے چندہ ملا تھا، نے 2024 کے لوک سبھا انتخاب میں صرف ایک امیدوار میدان میں اتارا تھا۔ الیکشن کمیشن کو دی گئی معلومات کے مطابق 2020 میں پٹنہ میں پارٹی کے قیام کے بعد 2 سال تک اسے 20000 روپے سے زیادہ کا کوئی چندہ نہیں ملا۔ سیاسی پارٹیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ 20000 روپے سے زیادہ کے تمام چندوں کی سالانہ رپورٹ الیکشن کمیشن کو جمع کرائیں۔ 23-2022 میں عام جن مت پارٹی کو 216 کروڑ روپے ملے اور پھر 24-2023 میں چندہ بڑھ کر 620 کروڑ روپے ہوگیا۔