میری فیڈ، میری مرضی : صارفین سوشل میڈیا اپنی مرضی سے استعمال کریں گے

Wait 5 sec.

کینبرا : آسٹریلیا میں سوشل میڈیا صارفین کو بڑی آزادی ملنے کا امکان ہے جس کے تحت اب فیڈ الگورتھم صارف خود طے کرے گا۔آسٹریلیا نے سوشل میڈیا صارفین کیلیے الگورتھمز سے دستبرداری کے قوانین کا اعلان کردیا، صارفین کو اپنی فیڈ میں دکھائے جانے والے مواد کے انتخاب کا اختیار دینے کے لیے نئے قوانین کا مسودہ پیش کردیا گیا ہے، جس کا مقصد صارفین کو الگورتھم کی جانب سے تجویز کردہ مواد پر زیادہ کنٹرول فراہم کرنا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل ڈیوٹی آف کیئر قوانین کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو صارفین کو یہ انتخاب دینا ہوگا کہ وہ الگورتھم سے دستبردار ہوجائیں اور صرف ان اکاؤنٹس کا مواد دیکھیں جنہیں وہ خود فالو کرتے ہیں۔فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ صارفین کو نوٹیفکیشن یا پاپ اپ کے ذریعے آپشن دیں۔صارفین چاہیں تو الگورتھم کی تجویز کردہ ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں یا پھر اسے بند کرکے صرف ان دوستوں اور تخلیق کاروں (کریئٹرز) کا مواد دیکھ سکتے ہیں جنہیں وہ دیکھنا یا سننا چاہتے ہیں۔’میری فیڈ، میری مرضی‘ منصوبہآسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے مجوزہ اصلاحات کو ’میری فیڈ، میری مرضی‘ (My Feed, My Way)کا نام دیتے ہوئے اسے صارفین کے لیے ایک عملی اور مناسب اقدام قرار دیا ہے۔البانیز کے مطابق نئی پالیسی صارفین کو اپنی سوشل میڈیا فیڈ کے حوالے سے زیادہ اختیار دے گی جبکہ بڑے ٹیک اداروں کو آسٹریلوی قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں جواب دہ بھی بنایا جائے گا۔سوشل میڈیا الگورتھمز پر عالمی دباؤ میں اضافہیاد رہے کہ دنیا بھر میں سوشل میڈیا کمپنیوں کو الگورتھمز کے حوالے سے بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کا سامنا ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض پلیٹ فارمز کے الگورتھمز صارفین کو زیادہ دیر تک اسکرین پر رکھنے کے لیے ایسے مواد کی مسلسل سفارش کرتے ہیں جو ان کی سابقہ دلچسپیوں سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔اس طرزِ عمل پر یہ خدشات بھی ظاہر کیے جاتے ہیں کہ مسلسل اور ذاتی نوعیت کی سفارشات بعض صارفین میں سوشل میڈیا کے عادی ہونے جیسے رویوں کو فروغ دے سکتی ہیں۔آسٹریلیا کی نئی تجاویز کا بنیادی مقصد صارفین کو یہ اختیار دینا ہے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ ان کی سوشل میڈیا فیڈ الگورتھم طے کرے گی یا وہ صرف اپنی پسند کے فالو کیے گئے اکاؤنٹس کا مواد دیکھیں گے۔