مایاوتی نے اشوک سدھارتھ سے متعلق مزید انکشافات کرنے کا دیا اشارہ، بی ایس پی چیف کے بیان سے سیاسی ہلچل بڑھی

Wait 5 sec.

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی کا بھتیجے آکاش آنند کے سسر اشوک سدھارتھ پر غصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ بی ایس پی سپریمو نے ایک بار پھر ان پر بڑا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ دباؤ کے باوجود انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا اور تمام حربے استعمال کر کے خود کو بچانے کی کوشش کی۔ مایاوتی نے یہ بھی اشارہ دیا کہ آنے والے وقت میں اشوک سدھارتھ سے متعلق مزید انکشافات کیے جائیں گے۔مایاوتی نے کی وعدہ خلافی! اشوک سدھارتھ کی قربانی کے باوجود آکاش آنند کو بی ایس پی سے نکالا گیادراصل بی ایس پی چیف مایاوتی نے آج ایک بار پھر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک طویل پوسٹ کی ہے، جس میں انہوں نے بی ایس پی کے عزائم ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ سماجوادی پارٹی، کانگریس سمیت کئی سیاسی پارٹیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ اس سوشل میڈیا پوسٹ میں مایاوتی نے اشوک سدھارتھ کے سیاست سے سبکدوش ہونے کی پوری کہانی کا بھی ذکر کیا ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ ’’جس دن بی ایس پی نے اشوک سدھارتھ کو سیاست سے سبکدوش ہونے کا مشورہ دیا تھا، اس دن ان پر کافی دباؤ پڑنے کے باوجود انہوں نے فوری طور پر اپنے سبکدوش ہونے کا اعلان نہیں کیا تھا۔ وہ پوری رات اسے رکوانے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کرتے رہے۔‘‘بی ایس پی چیف کا کہنا ہے کہ جب اشوک سدھارتھ کو کامیابی نہیں ملی تو مجبوری میں اگلے دن یہ سوچ کر تقریباً صبح 6:30 بجے انہیں اپنے سبکدوش ہونے کا کافی ’لیکن ویکن‘ والا اعلان کرنا پڑا کہ کہیں زیادہ تاخیر ہونے سے بڑا نقصان نہ ہو جائے۔ مایاوتی نے یہ بھی کہا کہ اس کے بارے میں صحیح وقت آنے پر پارٹی کے لوگوں کو اور بھی بہت کچھ ضرور بتایا جائے گا۔ مایاوتی کے اس بیان سے صاف ہے کہ آنے والے دنوں میں اشوک سدھارتھ کو لے کر مزید بڑی باتیں سامنے آ سکتی ہیں۔1. सपा, कांग्रेस व अन्य विरोधी पार्टियों के नेताओं व कार्यकर्ताओं द्वारा बी.एस.पी. का शुरु से ही चला आ रहा नीला रंग अब यह इनके गले का गमछा व कपड़े पहनने से तथा स्टेज आदि में भी नीला कपड़ा इस्तेमाल करने से इनकी सर्वसमाज में से ख़ासकर ग़रीबों, दलितों, आदिवासियों, पिछड़े व अन्य…— Mayawati (@Mayawati) September 11, 2026واضح رہے کہ جمعرات کو آکاش آنند کے سسر اشوک سدھارتھ نے سیاست سے سبکدوش ہونے کا اعلان کیا تھا، جس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مایاوتی نے اسے دیر سے اٹھایا گیا درست قدم قرار دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ صحیح وقت پر سبکدوش ہو جاتے تو بی ایس پی، بہوجن تحریک کے ساتھ ساتھ آکاش آنند کو بھی ناموافق حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ بعد میں مایاوتی نے آکاش آنند کو بھی پارٹی کی تمام ذمہ داریوں سے آزاد کر دیا۔