ملک بھر میں ان دنوں جھما جھم بارش ہو رہی ہے۔ مانسون کا اثر ملک کے بیشتر حصوں میں نظر آ رہا ہے۔ حالانکہ مانسون اپنے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے، لیکن اس کی خطرناک شکل اب بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مانسونی بارش کی وجہ سے شمالی ہندوستان میں کوسی اور گنگا سمیت کئی ندیاں طغیانی پر ہیں۔ اس درمیان محکمہ موسمیات نے 8 ستمبر کو ملک بھر میں بارش کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا ہے۔اتر پردیش میں 8 ستمبر کو مانسون کافی زیادہ فعال رہے گا۔ آج محکمہ موسمیات کی جانب سے ریاست کے آگرہ، کانپور، سیتاپور، ہردوئی، سدھارتھ نگر، شراوستی، گونڈا، مہاراج گنج، کشی نگر، دیوریا، کھیری، بہرائچ، بلرام پور اور گورکھپور میں شدید بارش اور آندھی کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ بہار کے کئی اضلاع سیلاب کی زد میں پہلے سے ہی ہیں، اور آج بھی شدید بارش اور آندھی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ جھارکھنڈ میں بھی کئی حصوں میں تیز بارش اور آندھی کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔راجستھان کے کرولی، دھول پور، ادے پور، بھرت پور، جے پور، باراں، سوائی مادھوپور، چورو اور کوٹا میں درمیانی سے شدید بارش کی وارننگ محکمہ موسمیات نے جاری کی ہے۔ مدھیہ پردیش کے کئی اضلاع میں آج بارش اور آندھی کا یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ پنجاب کے کئی اضلاع میں بھی شدید بارش اور آندھی کا الرٹ ہے۔ ہریانہ میں موسمی سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں۔ مغربی بنگال کے کئی اضلاع میں آج شدید بارش اور آندھی کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔شمال مشرقی ہندوستان میں بھی مانسون کا اثر تیز نظر آ سکتا ہے۔ اروناچل پردیش، آسام، میگھالیہ، ناگالینڈ، منی پور، میزورم اور تریپورہ میں آج اور اگلے کچھ دنوں کے دوران بارش کا امکان ہے۔ آسام اور میگھالیہ میں وسیع پیمانے پر بارش ہو سکتی ہے۔ آندھرا پردیش، کرناٹک، تمل ناڈو، پڈوچیری اور تلنگانہ کے الگ الگ حصوں میں آج سے 13 ستمبر کے درمیان ہلکی سے چھٹ پٹ بارش ہو سکتی ہے۔ کیرالہ اور ماہے میں 9-8 ستمبر، اور پھر 13 ستمبر کو بارش کا امکان ہے۔پہاڑی علاقوں کی بات کریں تو اتراکھنڈ میں الموڑہ، پتھورا گڑھ، نینی تال، رشی کیش، پوڑی گڑھوال، چمولی، ٹہری گڑھوال، رودر پریاگ اور ہریدوار میں شدید بارش اور آندھی کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ہماچل پردیش میں کئی اضلاع میں درمیانی بارش اور آندھی کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ جموں کشمیر کے کئی علاقوں میں شدید بارش اور آندھی کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ملک کی راجدھانی دہلی میں آج محکمہ موسمیات نے عام طور پر آسمان پر بادل چھائے رہنے اور ہلکی بارش یا بوندا باندی ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ آج ریاست میں زیادہ سے زیادہ 34 اور کم سے کم 24 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت رہ سکتا ہے۔ دہلی میں 9 اور 10 ستمبر کو بارش کا امکان نہیں ہے۔ اس کے بعد 11، 12 اور 13 ستمبر کو ریاست میں عام طور پر آسمان پر بادل چھائے رہ سکتے ہیں اور ہلکی بارش دیکھنے کو مل سکتی ہے۔بہار میں کئی اضلاع سیلاب کی زد میں ہیں اور راجدھانی پٹنہ کے کئی علاقوں پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ گنگا کی آبی سطح بڑھنے کی وجہ سے نشیبی علاقوں میں پانی بھی پہنچ چکا ہے، جس سے لوگوں کی معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ بہار کے نوگچھیا میں تو حالات انتہائی دگرگوں نظر آ رہے ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق نوگچھیا کے مدرونی علاقہ میں چاروں طرف پھیلا مٹیالا پانی، ڈوبے ہوئے اسکول اور پانی میں چلتی کشتیاں لوگوں کی حالت زار بیان کر رہی ہیں۔ کوسی ندی کے بڑھتی ہوئی آبی سطح کے ساتھ گنگا کی طغیانی نے لوگوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ کہیں 5 سے 6 فٹ تک پانی بھرا ہے، تو کئی گھروں کے اندر تک پانی پہنچ چکا ہے۔ ایسے حالات میں لوگوں کی آمد و رفت کا سہارا صرف کشتی رہ گئی ہے۔مدرونی کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ گزشتہ تقریباً 20 دنوں سے کوسی کا پانی مسلسل پھیل رہا ہے۔ اس سے ہزاروں کی آبادی متاثر ہے۔ دیہی عوام کا کہنا ہے کہ اس بار سب سے بڑی پریشانی پانی کی نکاسی نہ ہو پانا ہے۔ کٹیہار کی طرف جس جگہ کوسی ندی گنگا میں ملتی ہے، وہاں گنگا کی آبی سطح پہلے سے بڑھی ہوئی ہے۔ ایسے میں کوسی کا پانی آگے نہیں نکل پا رہا ہے۔ یہی پانی پیچھے کی طرف پھیل کر مدرونی سمیت آس پاس کے درجنوں گاؤں تک پہنچ رہا ہے۔سیلاب کا اثر صرف گھروں تک محدود نہیں ہے۔ مدرونی علاقے کے کئی اسکول پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ ناسی ٹولا گاؤں کا مقامی مندر بھی سیلاب کے پانی سے گھرا ہوا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر گنگا کی آبی سطح کم نہیں ہوئی تو کوسی کے پانی کی نکاسی کا مسئلہ برقرار رہے گا۔ اس سے مدرونی سمیت آس پاس کے گاؤں میں سیلاب کا بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔