سعودی عرب: ملازمین سے یہ کام کروانے پر 6 ماہ قید، ایک لاکھ ریال جرمانہ

Wait 5 sec.

ریاض: سعودی عرب میں حکام نے دوسروں کے لیے ملازمین سے کام کروانے پر چھ ماہ تک قید اور ایک لاکھ ریال جرمانے کی سزا مقرر کی ہے۔وزارتِ داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ ایسے انفرادی آجر جو اپنے ملازمین کو دوسرے افراد کے لیے یا اپنے ذاتی فائدے کے لیے کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں، انھیں زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ سعودی ریال جرمانے اور 6 ماہ تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔وزارت داخلہ کے مطابق ایسے آجروں کو 5 سال تک کارکنوں کی بھرتی کرنے سے بھی روک دیا جائے گا۔خلیجی ممالک جانے اور آنے مسافروں کے لیے اہم الرٹ جاریوزارت نے آجرین اور ملازمین دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ اقامتی، لیبر اور سرحدی سلامتی سے متعلق قوانین و ضوابط کی مکمل پابندی کریں۔ وزارت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خلاف ورزیوں کی اطلاع مکہ، مدینہ، ریاض اور مشرقی صوبے میں 911، جب کہ مملکت کے دیگر علاقوں میں 999 پر کال کر کے دیں۔