مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے درمیان ہندوستان نے خام تیل کے لیے 31 ممالک کا دروازہ کھٹکھٹایا، روس کی حصہ داری سب سے زیادہ

Wait 5 sec.

ایران اور امریکہ کے مابین جاری جنگ کے 6 مہینوں کے دوران گلوبل مارکیٹ میں افراتفری کا ماحول ہے۔ خام تیل کی سپلائی چین متاثر ہونے کا خوف ہر ملک کو تھا۔ بحران کے اس دور میں ہندوستان نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی۔ ملک نے خام تیل کی سپلائی کے لیے 31 نئے ممالک کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ حالانکہ اعداد و شمار کے مطابق تمام کوششوں کے باوجود ہندوستان کا انحصار چند ممالک تک ہی محدود ہے۔ خصوصاً روس نے ہندوستانی مارکیٹ میں اپنا غلبہ قائم کیا ہے۔ اینالیٹکس فرم کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ سے اگست کے درمیان ہندوستان نے 10 نئے ممالک سے خام تیل خریدا ہے۔ لیکن ان میں سے 9 ممالک کا مجموعی تعاون محض 1.4 فیصد رہا۔ صرف وینزویلا ہی ایک ایسا نیا ملک ہے، جس نے ہندوستان کی مجموعی درآمدات میں تقریباً 5 فیصد کی شراکت داری درج کی۔ ہندوستان کی تیل درآمدات میں ٹاپ 5 سپلائرز کی حصہ داری 76 فیصد رہی۔ گزشتہ 6 مہینوں میں یہ اعداد و شمار 79 فیصد تھے۔ٹاپ 5 سپلائرز کی فہرست میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ امریکہ کے ساتھ ہی نائجیریا بھی اس فہرست سے باہر ہو گیا ہے، جس کی جگہ وینزویلا اور برازیل نے لی ہے۔ روس، متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ سعودی عرب اب بھی سب سے بڑا سپلائر ہے۔ سپلائرز کے ارتکاز (کنسنٹریشن) کی پیمائش کرنے والا ہرفنڈال-ہرشمن انڈیکس (ایچ ایچ آئی) 1606 سے 56 فیصد بڑھ کر 2513 ہو گیا ہے۔ 2500 سے زیادہ ایچ ایچ آئی کو زیادہ منحصر سمجھا جاتا ہے۔ ہندوستان کے لیے خام تیل کی درآمدات میں روس کی حصہ داری تیزی سے بڑھی ہے۔ گزشتہ 6 مہینوں میں یہ 29 فیصد سے بڑھ کر براہ راست 47 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس دوران ہندوستان کی مجموعی درآمدات 5 فیصد کم ہو کر 4.77 ملین بیرل یومیہ (بی پی ڈی) رہ گئی ہیں۔ سب سے زیادہ کمی عراق سے آنے والے تیل میں ہوئی ہے۔ عراق کی حصہ داری 18 فیصد سے گھٹ کر محض 2 فیصد رہ گئی۔ عراق سے ہونے والی 820000 بی پی ڈی کی اس کمی کو روس نے 770000 بی پی ڈی کے اضافے کے ساتھ تقریباً مکمل کر دیا۔ اب روس سے 2.25 ملین بی پی ڈی تیل آ رہا ہے۔خام تیل کی قیمت 90 ڈالر سے تجاوز، دنیا ایک بار پھر تشویش میں مبتلااس دوران ہندوستان نے ایسے 10 نئے ممالک سے تیل خریدا، جن سے گزشتہ 6 مہینوں کے دوران کوئی خریداری نہیں ہوئی تھی۔ وینزویلا کو چھوڑ دیں تو باقی 9 نئے سپلائرز کا مجموعی حصہ صرف 1.4 فیصد رہا۔ وینزویلا نے تقریباً 5 فیصد حصہ داری حاصل کی۔ ایران، ایکواڈور، بہاماس، الجزائر اور کناڈا جیسے نئے سپلائرز کا کردار محدود رہا۔ ان میں سے بیشتر نے 6 مہینوں میں صرف کسی ایک ماہ کے دوران ہی خام تیل کی سپلائی کی۔ صنعتی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ کوئی بڑی اسٹریٹجک تبدیلی نہیں تھی۔ خلیجی ممالک سے سپلائی متاثر ہونے کے بعد عالمی تجارت کرنے والوں نے ہندوستانی ریفائنریوں کی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے یہ عارضی انتظام کیا تھا۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر 6 ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ منگل کی صبح 7 بجے تک برینٹ کروڈ فیوچرز 97.04 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔