’اگر آپ میں عزت نفس ہے تو تقریب کا بائیکاٹ کریں‘، سنجے راؤت ’نیشنل فلم ایوارڈ‘ دہلی سے گجرات لے جانے پر ناراض

Wait 5 sec.

’نیشنل فلم ایوارڈ‘ کی تقریب 72 برسوں کی تاریخ میں پہلی بار قومی راجدھانی دہلی میں نہیں ہو پائے گی۔ اس سال یہ تقریب گجرات میں منعقد کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ ہمیشہ سے راشٹرپتی بھون میں ہونے والی یہ ایوارڈ تقریب اس سال گجرات کے کیوڑیا میں ہوگی اور صدر جمہوریہ دروپدی مرمو وہاں پہنچ کر ایوارڈ یافتگان کو اعزاز سے نوازیں گی۔ حکومت کے اس فیصلے پر شیو سینا یو بی ٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے سوال اٹھایا ہے۔ ادھو ٹھاکرے گروپ کے لیڈر سنجے راؤت نے فلمی شخصیات سے کہا ہے کہ ’’اگر خود داری ہے تو اس ایوارڈ تقریب کا بائیکاٹ کریں۔‘‘ سنجے نے سوال کیا ہے کہ ایوارڈ تقریب، جو ابتدا سے ہر سال راشٹرپتی بھون میں ہوتی تھی، اسے گجرات لے جانے کا کیا مطلب ہے؟وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے سنجے راؤت نے سوال کیا ہے کہ ’’کیا وہ صرف گجرات کے وزیر اعظم ہیں؟‘‘ اتنا ہی نہیں شیوسینا یو بی ٹی کے رکن پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم مودی اور امت شاہ اس سوچ کے ساتھ کام کرتے ہیں کہ سب گجرات کے غلام ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ یہ ایوارڈ تقریب ممبئی میں ہونی چاہئے، لیکن اسے ملک کی راجدھانی میں ہونا چاہئے۔ سنجے راؤت نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ بی جے پی میں اب بہت زیادہ خوف کا ماحول ہے۔ یہ ڈر ملک کے وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور پوری بی جے پی میں ہم صاف دیکھ رہے ہیں۔ جس طرح سے انہوں نے راہل گاندھی پر حملہ شروع کیا ہے، اور ان کے خلاف ماحول بنایا جا رہا ہے۔ لیکن راہل گاندھی ایک ایسے لیڈر بن چکے ہیں جو کسی حملے سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔‘‘'بی جے پی کی مرکزی حکومت 4 جون کو رخصت ہو رہی ہے‘، سنجے راوت کا دعویٰراہل گاندھی کے حوالے سے سنجے راؤت نے کہا کہ ’’وہ عوام کے دلوں میں جگہ بنا چکے ہیں اور یہ بات بی جے پی کو سب سے زیادہ پریشان کر رہی ہے۔ مہاراشٹر کی اگر بات کریں تو یہاں بھی مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) پوری مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم سب مل کر انتخاب لڑیں گے اور عوام کے درمیان آئیں گے، اور جو لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ ایجنسیوں کا استعمال کر کے یا ڈرا دھمکا کر سیاست کر لیں گے، انہیں اس بار عوام جواب دینے والے ہیں۔